’اس فلم کے بعد کشمیر میں زیادہ قتل کے واقعات پیش آئے‘، فلم ’دی کشمیر فائلس‘ تنازعہ پر سنجے راؤت کا تبصرہ

سنجے راؤت نے کہا کہ ’’دی کشمیر فائلس کے بارے میں یہ سچ ہے، یہ ایک پارٹی کے ذریعہ دوسرے کے خلاف تشہیر تھی، اس فلم کے بعد کشمیر میں سب سے زیادہ قتل ہوئے ہیں۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

فلم ’دی کشمیر فائلس‘ کو ایک پارٹی کے ذریعہ دوسرے کے خلاف تشہیر قرار دیتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے انڈین انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف آئی) کے جوری چیف نادو لاپڈ کے دفاع میں سامنے آئے، جنھوں نے وویک اگنیہوتری کی فلم ’دی کشمیر فائلس‘ کی تنقید کی تھی۔

راؤت نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’یہ فلم دی کشمیر فائلس کے بارے میں سچ ہے۔ یہ ایک پارٹی کے ذریعہ دوسرے کے خلاف تشہیر تھی۔ اس فلم کے بعد کشمیر میں سب سے زیادہ قتل ہوئے ہیں۔ کشمیری پنڈت اور سیکورٹی اہلکار مارے گئے، لیکن ایک پارٹی اور حکومت تشہیر میں مصروف تھی۔‘‘ انھوں نے پوچھا کہ ’’دی کشمیر فائلس کے لوگ کہاں تھے جب کشمیر میں قتل ہو رہے تھے، یہاں تک کہ کشمیری پنڈتوں کے بچے بھی تحریک شروع کر رہے تھے۔‘‘ راؤت کا کہنا ہے کہ ’’تب کوئی بھی آگے نہیں بڑھا تھا اور تب کشمیر فائلس 2.0 کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔‘‘


شیوسینا لیڈر کا تبصرہ 53ویں آئی ایف ایف آئی-2022 کے جوری چیف لاپڈ کے ذریعہ ’دی کشمیر فائلس‘ کو فہرست میں شامل کیے جانے پر تنقید کیے جانے کے ایک دن بعد آیا ہے، اور اسے ’ایک فحش، تشہیری فلم، ایک فنکارانہ، مقابلہ آرا کلاس کے لیے نامناسب‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فلمساز نے گوا میں اختتامی تقریب میں یہ بھی دیکھا کہ کیسے جوری پریشان اور حیران تھے کہ فلم کو فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا، جس سے مختلف حلقوں میں ایک تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔