سنبھل کے سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے پر کانگریس کا ردعمل، بی جے پی پر عدلیہ کو نشانہ بنانے کا الزام

سنبھل تشدد معاملے میں پولیس کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دینے والے سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت پر عدلیہ کو دباؤ میں لینے اور ججوں کو سزا دینے کا الزام لگایا ہے

<div class="paragraphs"><p>سنبھل میں تشدد / فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سنبھل تشدد معاملے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کے تبادلے اور ڈیموشن پر تازہ سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لیا جا رہا ہے اور حکومت کے خلاف فیصلے دینے والے ججوں کو سزا دی جا رہی ہے۔

کانگریس نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وبھانشو سدھیر نے سنبھل تشدد کے دوران ایک نوجوان کی موت کے معاملے میں اُس وقت کے اے ایس پی انوج چودھری سمیت پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد حکومت نے نہ صرف ان کا تبادلہ کیا بلکہ اگلی تعیناتی میں انہیں ڈیموٹ بھی کر دیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوریت اور آئین کی روح کے خلاف ہے اور اس سے عدالتی آزادی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔


یہ معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل میں پیش آنے والے تشدد سے جڑا ہے، جس میں یامین نامی شخص نے اپنے بیٹے عالم کی موت کا الزام پولیس پر عائد کیا تھا۔ بعد ازاں 18 ستمبر 2025 کو وبھانشو سدھیر نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ عہدہ سنبھالنے کے چند ماہ بعد 9 جنوری 2026 کو انہوں نے اے ایس پی انوج چودھری سمیت تقریباً 15 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، جو 12 جنوری کو منظر عام پر آیا۔

عدالتی حکم کے بعد پولیس انتظامیہ نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی تھی۔ اسی دوران، ایف آئی آر درج کرنے کی مہلت ختم ہونے سے کچھ دن قبل 20 جنوری کی رات سی جے ایم وبھانشو سدھیر کا اچانک تبادلہ سلطان پور کر دیا گیا اور ان کی جگہ آدتیہ سنگھ کو سنبھل کا نیا چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔


کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل راجستھان میں بھی ایک ایسے جج کا تبادلہ کیا گیا تھا جنہوں نے ایک بڑے صنعتی گروپ کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ پارٹی کے مطابق یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عدلیہ پر بالواسطہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر اب سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔