یوپی بجٹ پر اودھیش پرساد کا حملہ، کہا- ’یہ یوگی حکومت کا الوداعی بجٹ ہے، اگلا سماج وادی کا ہوگا‘
ایم پی اودھیش پرساد نے کہا کہ یہ بجٹ ریاست کے کسانوں اور مزدوروں کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔ منریگا، جس کا نام بدل کر جی رام جی کر دیا گیا ہے اس اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی مزدوری باقی ہے

اتر پردیش اسمبلی میں بدھ کے روز مالی سال 27- 2026 کا بجٹ پیش کیا گیا جس کی مختلف حلقوں سے حمایت اور مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم پی اودھیش پرساد نے اس بجٹ کو یوگی حکومت کا الوداعی بجٹ قرار دیا۔ نئی دہلی میں ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یوپی میں آنے والا بجٹ ہمارا ہوگا۔ اگلی حکومت اکھلیش یادو کی قیادت میں بنے گی۔
اتر پردیش کے بجٹ کے بارے میں ایس پی ایم پی اودھیش پرساد نے کہا کہ یہ بجٹ ریاست کے کسانوں اور مزدوروں کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔ منریگا، جس کا نام بدل کر جی رام جی کردیا گیا ہے اس اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی مزدوری باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پارلیمانی حلقے میں 20 سے 22 ہزار مزدوروں کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً کام کیا، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی کام کیا لیکن اجرت نہیں ملی۔ کیا اس بجٹ میں ان کے بقایا جات ادا کیے جائیں گے؟
’وندے ماترم‘ کے حوالے سے مرکزی حکومت کے نئے رہنما خطوط کے بارے میں ایس پی ایم پی اودھیش پرساد نے کہا کہ ’ بہت بہت خیر مقدم ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ایسا گیت ہے جو طویل عرصے سے گایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں حکومت سے کہنا چاہوں گا کہ خواہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں، سبھی کو ’وندے ماترم‘ کی روح، پیغام اورعزائم کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں’وندے ماترم‘ کو لانے میں تمام طبقات اور مذاہب کے لوگوں کا مکمل تعاون رہا ہے، تبھی ملک آزاد ہوا۔
ویر ساورکر کو بھارت رتن سے نوازنے کے بارے میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر ایس پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمارے ملک میں بہت سے اہم مسائل ہیں، انہیں پہلے حل کیا جانا چاہئے. ہمارے کروڑوں نوجوان جو ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، بڑے بڑے کالجوں سے ڈگری لے کرآج بے روزگار گھوم رہے ہیں۔ ڈگریاں جلانے کی کوشش ہورہی ہے، کئی نوجوان خودکشی کرنے کی سوچنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کبھی ٹوٹ نہیں سکتا لیکن جب نوجوانوں کا دل ٹوٹتا ہے تو یہ ملک کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اس پر سنجیدگی سے بحث ہونی چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔