بالی ووڈ میں اردو کے چشم و چراغ ساگر سرحدی نے بھی دنیا کو کہا الوداع!

ساگر سرضدہ نے 1992 میں ریلیز ہوئی شاہ رخ کی پہلی سپر ہٹ فلم ’دیوانہ‘ اور ریتک روشن کی بلاک بسٹر فلم ’کہونہ پیار ہے‘ بھی لکھی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: ہندوستان کے اردو زبان کے افسانہ نگار،ڈراما نگار، فلم ساز، ہدایت کار، مکالمہ نویس اور اسکرین پلے رائٹر ساگر سرحدی کا آج یہاں جنوب وسطی ممبئی کے متوسط طبقہ کے علاقہ سائن میں انتقال ہوگیا ۔ انہوں نے ملک کی تقسیم کے بعد سائن کولی واڑہ کے سردار نگر رفیوجی کیمپ میں پناہ لی تھی اور گزشتہ73سال سے یہیں زندگی گزار دی ۔ وہ غیر شادی شدہ تھے اوران کا اصل نام تلوار گنگا ساگر ہے۔

ساگرسرحدی 11 مئی 1933ء میں پاکستان کے خیبر پختونخواصوبے (سابقہ صوبہ سرحد) کے شہر ایبٹ آباد کے ایک خوب صورت قصبے ’بفا‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ ساگر سرحدی نے کبھی کبھی ،نوری ،سلسلہ اوربازار جیسی فلمیں لکھیں اور شہرت حاصل کی ،ان کے بھتیجے رمیش تلوار کے مطابق 88سال کی عمرمیں اتوار کی رات دیر گئے معمولی علالت کے بعدآخری سانس لی۔ تھیٹر کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ساگر سرحدی نے فلموں میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ان کے انتقال پر معروف فلم صحافی اور فلم ساز خالد محمد نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساگرسرحدی ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے ،جنہوں نے تھیٹر اور فلموں میں اپنے فن کا بہتر انداز میں مظاہرہ کیا۔

ساگر سرحدی 12سال کی عمر میں ملک کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی آگئے اور پھر بڑے بھائی کے خاندان کے ساتھ میں ممبئی آگئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ خالصہ کالج میں تعلیم کے دوران انہوں نے سینٹ زیویئر میں داخلہ لیا،لیکن دوران تعلیم سرحدی نے ایک اشتہاری ایجنسی میں ملازمت اختیار کر لی۔ ساگر سرحدی نے اردو مصنف کی حیثیت سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا اور تھیٹر سے فلمی دنیا میں آگئے ۔ انہوں نے 1976 میں یس چوپڑہ کی فلم ’کبھی کبھی‘ سے فلمی دنیا میں داخلہ لیا۔ فلم میں اداکار امیتابھ بچن اور راکھی،ششی کپور،پونم ڈھلون اور دیگر نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔1981 میں ششی کپور اور سری دیوی کی فلم ’سلسلہ‘بھی انہوں نے لکھی تھی اور پھر فاروق شیخ اور پونم ڈھلون کی فلم ’نوری‘ بھی لکھی تھی اور فلمساز تھے۔ انہوں نے 1992 میں شاہ رخ کی پہلی فلم ’دیوانہ‘ اور رتیک روشن کی فلم ’کہونہ پیار ہے‘ بھی لکھی تھی۔ ان کے پسماندگان میں بھتیجے ،بھتیجی اوربھانجے و بھانجی ہیں۔رمیش تلوار بھی ان کے بھتیجے ہیں۔

واضح رہے کہ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’جیون جانور‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈرامے ’بھگت سنگھ کی واپسی‘، ’خیال کی دستک‘، ’راج دربار‘ اور ’تنہائی‘ بھی مشہور ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ درد ہمیشہ بامعنی اظہار کا سبب ہوتا ہے۔ ان کا اپنے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح حقیقت پسندانہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا اصل ادبی اور فنکارانہ مخاطبہ عام انسانوں کے ادراک اور آگاہیوں کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے اور لوگوں کے رد عمل کو جاننا چاہتے ہیں۔ ساگر سرحدی نے کئی ہندوستانی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے مگر ایک ایک فلم کے فلمساز اور ہدایت کار رہے۔ انھوں نے فلم اندوبھاو 1971ء، زندگی 1976ء، انکار 1977ء، کرم یوگی 1978ء، نوری 1979ء، چمل کی قسم 1980ء، فیصلے 1985ء، چاندنی 1989ء، دیوانہ 1992ء، کہو نا پیار ہے 2000ء اور کاروبار: محبت کی تجارت 2000ء کے مکالمے لکھے۔ 1982ء میں فلم ’بازار‘ کی ہدایت کاری کے فرائص سر انجام دیے اور فلم ’لوری‘ کے فلمساز بھی بنے۔ ساگر سرحدی نے متعدد فلموں کے اسکرین پلے بھی لکھے جن میں کبھی کبھی 1976ء، دوسرا آدمی 1977ء، نوری 1979ء، سلسلہ 1981ء، سوال 1982ء، دیوانہ 1992ء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فلم دوسرا آدمی، نوری، بازار 1982ء لوری اور دیوانہ کی کہانیاں بھی لکھیں۔ ساگر سرحدی فلم میں کاروباریت اور جنس کے منفی رجحان سے بیزار ہیں۔ وہ بامعنی سینما کے متنمی ہیں ساتھ ہی وہ ادبی جمالیاتی اور فنکارانہ رچاؤ کو فلموں میں بہتر تصور کرتے ہیں۔ شاید انھوں نے اسی سبب اپنی فلم "بازار" میں میر تقی میر، مرزا شوق، بشیر نواز اور مخدوم محی الدین کی شاعری کو جگہ دی۔ بعض دفعہ وہ متنازع بھی رہے ہیں۔ بہرحال ان کی فلموں میں ہر کردار سوچتا نظرآتا ہے اور فلم بین کو معاشرے کے حقائق پر سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔