عدالت میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی پیشی، گلزار اعظمی نے ملزمین پر لگایا گواہوں پر دباؤ بنانے کا الزام

خصوصی جج نے سادھوی پرگیہ کو اس شرط پر حاضری سے مستثنیٰ رکھنے کی اجازت دی تھی کہ غیر حاضری میں ان کے وکلاء عدالت میں موجود رہیں گے اور عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی گزارش نہیں کریں گے۔

 پرگیہ سنگھ ٹھاکر، تصویر آئی اے این ایس
پرگیہ سنگھ ٹھاکر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں آج کئی ماہ کے بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ممبئی میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں پیش ہوئی اور اپنی حاضری لگائی۔ زعفرانی لباس میں ملبوس پرگیہ سنگھ ٹھاکر آج چل کر کمرہ عدالت میں داخل ہوئی اور اس نے جج سے کہا کہ اس کا ممبئی کے مشہور کوکیلا بین اسپتال میں علاج چل رہا ہے لہذا وہ عدالت میں روزانہ آنے سے قاصر ہے، اس سے قبل وہ وہیل چئیر پر آئی تھیں اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس کی صحت ناساز ہے لہذا اسے عدالت میں روزانہ حاضر رہنے سے مشتثنی قرار دیا جائے۔

خصوصی جج پی آر سٹرے نے سادھوی پرگیہ سنگھ کو اس شرط پر اجازت دی تھی کہ اس کی غیرحاضری میں اس کے وکلاء عدالت میں موجود رہیں گے اور وہ عدالت کی کارروائی ملتوی کرنے کی گزارش نہیں کریں گے۔ اس ضمن میں بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی عدالت سے مسلسل غیر حاضری کی شکایت کی گئی تھی جس کے بعد عدالت نے سادھوی کے وکلاء جے پی مشراء اور پرشانت مگو کو ہدایت دی تھی کہ وہ ملزمہ کو عدالت میں پیش ہونے کو کہیں۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تمام ملزمین کو حکم دے وہ عدالتی کارروائی میں حصہ لیں جس پر عدالت نے حکم جاری کیا ہے۔


گلزار اعظمی نے کہا کہ این آئی اے کی جانب سے کلین چٹ ملنے کے بعد سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو بامبے ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کیا تھا، بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بم دھماکہ متاثرین کے توسط سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے بم دھماکہ متاثرین کی عرضداشت کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور این آئی اے کو نوٹس جاری کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں گواہان کے منحرف ہونے پر گلزار اعظمی نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت گواہان کو اپنے سابقہ بیانات سے انحراف کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ اس کا فائدہ ملزمین کو حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ میں اے ٹی ایس پولیس افسران کی گواہی کافی اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ ایک طرف ملزمین کے دور قریب کے رشتہ دار، دوست و اقارب وغیرہ اپنے سابقہ بیانات سے انحراف کر رہے ہیں اور این آئی اے بھی اس تعلق سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر رہی ہے۔


واضح رہے کہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں گواہوں کے بیانات کا اندراج کر رہی ہے، اب تک 208 گواہوں کی گواہی عمل میں آچکی ہے اور عدالتی کارروائی روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔