’دھرمیندر پردھان کو برخاست کر کے پارلیمنٹ آئیے‘، کانگریس صدر کھڑگے پی ایم مودی کے ویڈیو پیغام سے ناراض
کھڑگے نے کہا کہ ’’جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے ایوان میں بیان دینا ہوتا ہے۔ دیر رات ایک ویڈیو بنا کر پارلیمنٹ سے باہر یک طرفہ ’من کی بات‘ نہیں کی جاتی۔‘‘

نیٹ پیپر لیک معاملہ پر وزیر اعظم نریندر مودی نے دیر رات ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے حکومت کی کوششوں اور اٹھائے جا رہے اقدامات کے بارے میں ملک کو معلومات فراہم کیں۔ اس میں انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے سلسلے میں افسران کی جانب سے تیار کیے گئے مسودے کے بارے میں بھی بتایا۔ ان تمام معاملات کو لے کر راہل گاندھی کے بعد اب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔
کانگریس کے قومی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے ایوان میں بیان دینا ہوتا ہے۔ دیر رات ایک ویڈیو بنا کر پارلیمنٹ سے باہر یک طرفہ ’من کی بات‘ نہیں کی جاتی۔‘‘ کھڑگے نے ’ایکس‘ پر کیے گئے ایک پوسٹ میں وزیر اعظم مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’’نریندر مودی جی، آج پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے دھرمیندر پردھان کو برطرف کرکے آئیے گا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی سے کئی دیگر مطالبات بھی کیے۔ کھڑگے نے راہل گاندھی کے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ پہلے طلبا سے معافی مانگیے اور جن لوگوں نے طلبا کی آواز دبانے کے لیے لاٹھی، ڈنڈے اور پیلٹ گن کا استعمال کروایا، ان کے خلاف سخت کارروائی کیجیے۔ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی پہلے طلبا سے معافی مانگیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کریں، تب ہی کانگریس ایوان میں مزید بات چیت کے لیے تیار ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کے بعد ہی ہم تعلیمی نظام پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ افسران نے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے سلسلے میں مسودہ تیار کر لیا ہے اور اسے انہیں سونپ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر آج کابینہ میں بحث ہوگی۔ کابینہ کے وزرا کے ساتھ مشاورت کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بل کو جلد از جلد ایوان میں منظور کرانے کا کام کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
