پی ایم مودی کے ویڈیو پیغام پر راہل گاندھی اور جئے رام رمیش حملہ آور، وزیر تعلیم کی فوری برطرفی کا کیا مطالبہ

راہل گاندھی کہا کہ ’’طلبا دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبا کی ذہانت کی توہین کرتے ہوئے نصف رات کو جاری کی گئی ویڈیو افسوسناک ہے، اس طرح انہیں گمراہ نہ کیا جائے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

نیٹ-یو جی 2026 کے پیپر لیک اور طلبا کے احتجاج معاملے پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے، طلبا پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور طلبا سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی تازہ پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’طلبا دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبا کی ذہانت کی توہین کرتے ہوئے نصف رات کو جاری کی گئی ویڈیو افسوسناک ہے، اس طرح انہیں گمراہ نہ کیا جائے۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں وہ 3 مطالبات بھی پیش کیے، جو گزشتہ کئی دنوں سے بار بار برسراقتدار طبقہ کے سامنے رکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کیا جائے، طلبا کو مارنے والوں کو سزا دی جائے اور پی ایم مودی طلبا سے معافی مانگیں۔


دوسری جانب کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے ویڈیو پیغام پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ بے حد پریشان اور مایوس نظر آنے والے وزیر اعظم نے بالآخر گزشتہ رات 2 ماہ کی طویل خاموشی توڑتے ہوئے پیپر لیک کے معاملے پر ویڈیو پیغام جاری کیا۔ جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مودی حکومت طویل عرصے سے نیٹ-یو جی 2026 کے امتحان میں پیپر لیک ہونے سے انکار کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنی پریس کانفرنس میں جان بوجھ کر ’لیک‘ کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔ وزارت تعلیم نے تو پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے سامنے باضابطہ طور پر پیپر لیک ہونے کی تردید کی تھی۔ اب 2 ماہ سے عوام میں بڑھتے ہوئے غصے کے باعث وزیر اعظم کو بالآخر حقیقت تسلیم کرنی پڑی۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ طلبا کا مودی حکومت پر اب کوئی اعتماد باقی نہیں رہا ہے۔ حکومت نے مسلسل طلبا کے مفاد کے بجائے اپنے سیاسی مفادات اور حساب کتاب کو ترجیح دی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے نیٹ-یو جی 2024 کے امتحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہونے کے باوجود حکومت نے انہیں جان بوجھ کر دبا دیا۔ امتحان میں ٹاپ کرنے والے امیدواروں کی ایک محدود تعداد کے امتحان سنٹرس میں غیر معمولی طور پر مرتکز ہونے کے باوجود حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں آگے لکھا ہے کہ بعد میں حکومت نے اعتراف کیا کہ اس سال نیٹ امتحان میں ہزاری باغ میں ’محدود پیمانے پر لیک‘ ہوا تھا، لیکن اس کے ذمہ داروں کو اب تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سنجیو مکھیا کو پیپر لیک کا سرغنہ قرار دیا گیا، لیکن اب حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ بے قصور ہے۔


جئے رام رمیش نے 2024 کے منسوخ کیے گئے یو جی سی-نیٹ امتحان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں کلوزر رپورٹ داخل کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا ہے کہ پیپر لیک نہیں ہوا تھا، لیکن اس نتیجے کی کوئی وجہ واضح نہیں کی گئی۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی وجہ صرف سست رفتار عدالتی نظام نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے سی بی آئی کی کمزور تحقیقات اور مودی حکومت کی بے ایمان سیاسی قیادت بھی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی جواب دہی کے تئیں عزم کی کمی اس بات سے واضح ہے کہ انہوں نے 20 جولائی کو طلبا کے احتجاج اور ان پر پولیس کی جانب سے کیے گئے تشدد کا اپنے ویڈیو پیغام میں کوئی ذکر تک نہیں کیا۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پیش کیا جانے والا کوئی بھی دکھاوے والا قدم اس بحران کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ کسی بھی حل کی جانب پیش قدمی سے پہلے ضروری ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کیا جائے، طلبا کو مارنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلبا سے معافی مانگی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔