سابرمتی آشرم تنازعہ: باپو کے نواسہ تشار گاندھی کی عرضی پر عدالت میں سماعت جلد ممکن

تشار گاندھی کی عرضی میں ریاستی حکومت کی طرف سے آشرم کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور موجودہ وقت میں اس پر ایک ہزار کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کرنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

تشار گاندھی، تصویر آئی ے این ایس
تشار گاندھی، تصویر آئی ے این ایس
user

یو این آئی

احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ یہاں رن نیپ علاقہ میں واقع تاریخی سابرمتی آشرم کی مبینہ طور پر شکل و صورت تبدیل کرنے کے ریاستی حکومت کے منصوبہ کے خلاف درج مہاتما گاندھی کے نواسہ تشار گاندھی کی مفا دعامہ کی عرضی پر آئندہ دنوں میں سماعت کرسکتی ہے۔ باپو 1917 سے لے کر 1930 میں نمک ستیہ گرہ والی دنیا کی مشہور ڈانڈی یاترا تک سابر متی ندی کے کنارے پر واقع اس آشرم میں رہے تھے اور ان دنوں میں یہ جدوجہد آزادی کی حکمت عملی کا اہم مرکز تھا۔

مہاتما گاندھی کے تیسرے بیٹے آنجہانی منی لال گاندھی کے نواسہ تشار گاندھی نے عدالت میں بدھ کو مفاد عامہ کی عرضی دائر کی جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے آشرم کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور موجودہ وقت میں اس پر ایک ہزار کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کرنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔


ریاستی حکومت کے اندازہ 1200 کروڑ روپے کی لاگت والے گاندھی آشرم میموریل اور پریسنکٹ ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت آشرم اور اس کے آس پاس کی 48 ورثہ کی یادگاروں کو جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ کانگریس پارٹی اور کئی گاندھیائی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

تشار گاندھی کی دلیل ہے کہ یہ پروجیکٹ باپو کے درشن کے خلاف ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے علاوہ آشرم اور گاندھیائی سرگرمیوں کا آپریشن کرنے والے نصف درجن سے زیادہ ٹرسٹوں اور احمد آباد میونسپل کاپوریشن کو بھی مدعا علیہ بنایا ہے۔ ان کی یہ بھی دلیل ہے کہ حکومت کو آشرم کی سرگرمیوں میں دخل نہیں دینا چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔