بے رحم حکومت، بے بس عوام: 21 دنوں میں ڈیزل 16 اور پٹرول 13 فیصد مہنگا

دہلی میں پٹرول کی قیمت 25 پیسے اضافے کے ساتھ 80.38 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی جو 27 اکتوبر 2018 کے بعد کی اعلی سطح ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی 21 پیسے بڑھ کر 80.40 روپے فی لیٹر کے نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں ایک طرف کورونا انفیکشن کا قہر بڑھتا جا رہا ہے اور دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ عوام پریشان ہیں کہ اس مشکل حال میں کیا کریں جب کہ ان کی جیب پیسے نہیں اور مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ مرکز کی مودی حکومت کے اقدام سے بھی سبھی حیران ہیں کہ جہاں وہ کورونا پر قابو پانے میں ناکام ہے، وہیں لگاتار پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے وہ عام لوگوں پر مزید بوجھ کیوں ڈال رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ لگاتار یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی جائے لیکن اس کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا۔

آج تیل کی قیمتوں میں مسلسل 21ویں دن اضافہ کیا گیا جس سے ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں نے تاریخی اونچائیاں چھو لی ہیں۔ قومی راجدھانی دہلی میں اس مہینے ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 16 اور پٹرول کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی تیل تقسیم کرنے والی کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق، دہلی میں ہفتہ کے روز پٹرول کی قیمت 25 پیسے اضافے کے ساتھ 80.38 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی جو 27 اکتوبر 2018 کے بعد کی اعلی سطح ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی 21 پیسے بڑھ کر 80.40 روپے فی لیٹر کے نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

قابل ذکر ہے کہ اس مہینے 7 تاریخ سے تیل تقسیم کرنے والی کمپنی نے دونوں ایندھنوں کے دام بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 9.12 روپے یعنی 12.80 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ مسلسل 20 دن میں ڈیزل کی قیمت 11.01 روپے یعنی 15.87 فیصد بڑھ گئی ہے۔

کولکاتا اور ممبئی میں بھی پٹرول کی قیمت 23-23 پیسے بڑھ کر بالترتیب 82.05 روپے اور 87.14 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ چنئی میں یہ 22 پیسے کے اضافے کے ساتھ 83.59 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی۔ ڈیزل کولکاتا میں 18 پیسے مہنگا ہوکر 75.52 روپے، ممبئی میں 20 پیسے کے اضافےکے ساتھ 78.71 روپے اور چنئی میں 17 پیسے کی تیزی کے ساتھ 77.61 روپے فی لیٹر فروخت ہوا۔

Published: 27 Jun 2020, 11:11 AM
next