روسی کورونا ویکسین کا استعمال ہندوستان میں ممکن، لیکن...

ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں روسی کورونا ویکسین کا استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔

کورونا ویکسین
کورونا ویکسین
user

تنویر

روس نے دنیا کی پہلی کورونا ویکسین گزشتہ منگل کے روز لانچ کر دی۔ ایک ہفتہ کے اندر یہ ویکسین روسی بازار میں دستیاب ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، اور اب دیگر ممالک میں یہ سوال کیے جانے لگے ہیں کہ کیا یہ ویکسین روس کے باہر بھی بھیجی جائے گی۔ ہندوستان میں بھی یہ سوال لوگوں کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ روسی ویکسین کا استعمال یہاں کیا جائے گا یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان میں روسی کورونا ویکسین کا استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان میں اس ویکسین کو متعارف کرانے سے قبل سیکورٹی کے لحاظ سے اس کے اثرات کا پتہ لگایا جائے گا اور اس کے بعد ہی آگے کا کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ "اگر روس کی ویکسین کامیاب ہوتی ہے تو ہمیں باریکی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ محفوظ اور اثردار ہے کہ نہیں۔ اس ویکسین کے کوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہونے چاہئیں اور یہ یقینی ہونا چاہیے کہ اس سے مریض کو بہتر قوت مدافعت حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ ہندوستان کورونا انفیکشن سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں تیسرے مقام پر ہے اور یہاں کورونا ویکسین کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ روس میں کورونا ویکسین کو ہری جھنڈی ملنے کے بعد لوگوں کی امیدیں کافی بڑھ گئی ہیں، لیکن سائنسدانوں اور محققین کا ایک طبقہ اس روسی ویکسین کو شبہات کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ 'اسپوتنک' نامی اس کورونا ویکسین کے بارے میں حالانکہ روسی صدر ولادمیر پوتن نے کافی حوصلہ افزا باتیں 11 اگست کو کہی تھیں اور انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلا ٹیکہ ان کی بیٹی کو دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روس نے ویکسین کو بازار میں لانے سے پہلے ٹیسٹنگ کے ضابطوں پر عمل نہیں کیا جس سے خطرناک صورت حال کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Published: 12 Aug 2020, 11:46 AM
next