’رواں سال کے آخر تک ایک لاکھ فوجیوں سے محروم ہو جائے گا روس‘، یوکرین کا دعویٰ

ملک سے خطاب میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ محاذ پر مشکل حالات بنے ہوئے ہیں، نقصان کے باوجود روسی فوجی اب بھی ڈونیتسک علاقہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کامیاب نہیں ہو رہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

یوکرین کے صدر ولودمیر زیلینسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک روس کم از کم ایک لاکھ فوجیوں سے محروم ہو جائے گا۔ ایسا اس لیے کیونکہ ماسکو نے کیف کے خلاف اپنا حملہ جاری رکھا ہے۔ ’اوکرئنسکا پراودا‘ کے مطابق بدھ کو ملک کے نام اپنے خطاب میں زیلینسکی نے کہا کہ ’’محاذ پر مشکل حالات بنے ہوئے ہیں۔ نقصان کے باوجود روسی فوجی اب بھی ڈونیتسک علاقہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ زیلینسکی نے آگے کہا کہ ’’لیکن ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم دشمن کو ان کے ارادے پورے نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

زیلینسکی کا کہنا ہے کہ وسنت، گرمی، سردی کے موسم میں ڈونیتسک علاقہ پر قبضہ کر لیں گے۔ اس ہفتے سے یہاں سردی کی شروعات ہو چکی ہے۔ اس سے قبل منگل کو یوکرین کے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے کہا تھا کہ 24 فروری کو حملہ شروع ہونے کے بعد سے روسی فوج تقریباً 88 ہزار 380 فوجیوں سے محروم ہو گئی ہے۔


دوسری طرف کیف میں افسران نے بتایا کہ یوکرین حکومت کے ذریعہ خودسپردگی کے لیے شروع کیے گئے منصوبہ کے ذریعہ روزانہ 100 سے زائد روسی فوجی ہاٹ لائن پر کال کر رہے ہیں۔ افسران نے کہا کہ ’آئی وانٹ ٹو لیو‘ منصوبہ کے ذریعہ سے روسی فوجی یا تو ہاٹ لائن نمبر پر کال کر یا ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر ٹیکسٹنگ کر یوکرینی فوج کے سامنے خودسپردگی کرنے کا سب سے اچھا طریقہ چن سکتے ہیں۔

افسران کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حملہ آور اہلکاروں اور ان کے کنبوں سے 3500 سے زائد رابطے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادمیر پوتن کے ذریعہ سینکڑوں ہزاروں روسی مردوں کو منظم کرنے اور خراسان شہر کو آزاد کرنے کے بعد سے اس میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک یوکرینی کال ہینڈلر کے مطابق سب سے پہلے ہمیں ایک آواز سنائی دیتی ہے، جس میں مرد بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ وہ اکثر جزوی طور سے مایوس ہوتے ہیں، کیونکہ وہ پوری طرح سے نہیں سمجھتے ہیں کہ ہاٹ لائن کیسے کام کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آگے ہدایات دیئے جانے سے پہلے انھیں بس اپنی جگہ ظاہر کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔