روپے کا ڈالر کے مقابلے کمزور ہو کر 100 کی طرف بڑھنا آنے والی مہنگائی کا واضح اشارہ: راہل گاندھی
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی تھالی میں کیا بچ رہا ہے؟

ہندوستانی روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ اور صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں تیز اضافے نے ملک میں آنے والی مہنگائی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ مشکل حالات کے درمیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 100 کے قریب پہنچتی ہے اور ایندھن مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑے گا۔
راہل گاندھی نے اس معاملہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے ہیں۔ مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آنے والی مہنگائی کے واضح اشارے ہیں۔ کانگریس لیڈر کے مطابق اگر موجودہ حالات جاری رہے تو پیداوار اور نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کا سب سے زیادہ اثر چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) پر پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
راہل گاندھی نے موجودہ حالات پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے حالات رہے تو غیر ملکی سرمایہ کار (ایف آئی آئی) تیزی سے اپنا سرمایہ نکال سکتے ہیں، جس سے شیئر بازار پر دباؤ بڑھے گا اور معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر خاندان کی جیب پر براہِ راست اور گہرا اثر پڑے گا۔ راہل گاندھی نے خدشہ ظاہر کیا کہ انتخابات کے بعد پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے پاس حالات سے نمٹنے کے لیے نہ کوئی واضح سمت ہے اور نہ ہی ٹھوس حکمت عملی، بلکہ صرف بیانات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی تھالی میں کیا بچ رہا ہے۔ راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد مہنگائی، روپے کی گرتی قدر اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔