بہار: آر جے ڈی کارکنان نے آرہ میں کیا سڑک جام، انتخابی نتائج میں دھاندلی کا الزام!

آرہ-موہنیا این ایچ 30 کو جام کرنے والے آر جے ڈی کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت کی ملی بھگت سے انتخابی نتیجہ بدل گیا، جس کے احتجاج میں سڑک پر اتر کر مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

علامتی تصویر آئی اے این ایس
علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

بہار اسمبلی انتخاب میں مہاگٹھ بندھن نے این ڈی اے کو بھلے ہی زبردست ٹکر دی ہو، لیکن نتیش کمار کو حکومت سازی سے روک نہیں پائی۔ مہاگٹھ بندھن کی پارٹیاں اس بات سے حیران ہیں کہ سبھی ایگزٹ پول غلط کیسے ثابت ہو گئے، اور رجحان صبح میں مہاگٹھ بندھن کے حق میں جاتے ہوئے نظر آ رہے تھے، پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ این ڈی اے دن بھر 120 سے 125 سیٹوں کے آس پاس جھولتی رہی، اور آخر میں 125 سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کئی لیڈروں نے ووٹ شماری میں دھاندلی کا الزام بھی عائد کیا ہے اور آر جے ڈی کارکنان اس بات سے انتہائی ناراض ہیں۔ اس کا مظاہرہ انھوں نے آج آرہ میں سڑک جام کر کے کیا۔

جمعرات کے روز آر جے ڈی کارکنان نے آرہ-موہنیا نیشنل ہائیوے 30 کو جام کر دیا اور آگ زنی کر ٹریفک کو پوری طرح بند کر دیا۔ ضلع کے اُدونت نگر تھانہ حلقہ واقع ملتھر گاؤں کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کارکنان احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر اتر آئے ہیں۔ میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق سڑک جام کر رہے آر جے ڈی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس بار کے انتخابی نتائج میں دھاندلی ہوئی ہے۔ کارکنان نے کہا کہ حکومت کی ملی بھگت سے انتخابی نتیجہ بدل گیا، جس کے احتجاج میں سڑک پر اتر کر مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ بھوجپور ضلع میں اس بار مہاگٹھ بندھن کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ یہاں کی 7 سیٹوں میں سے 5 پر مہاگٹھ بندھن کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مہاگٹھ بندھن نے اسمبلی انتخاب میں اس بار 110 سیٹیں حاصل کیں۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 122 سیٹوں کی ضرورت تھی اور این ڈی اے نے 125 سیٹیں حاصل کر ایک بار پھر نتیش کمار کے لیے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ ہموار کر دی۔ آر جے ڈی 75 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئی، جب کہ بی جے پی کو 74 سیٹیں، جنتا دل یو کو 43 سیٹیں اور کانگریس کو 19 سیٹیں حاصل ہوئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next