مودی حکومت کے خود انحصاری کے دعووں کے باوجود خام تیل اور ایل پی جی پر درآمدی انحصار میں اضافہ: جے رام رمیش
جے رام رمیش نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برس میں خام تیل اور ایل پی جی پر درآمدی انحصار بڑھا ہے، جو خود انحصاری کے مودی حکومت کے دعووں کے برعکس ہے

کانگریس نے مودی حکومت کی توانائی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خود انحصاری کے دعووں کے باوجود ملک میں خام تیل اور ایل پی جی پر درآمدی انحصار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ یہ رجحان حکومت کے بیانیے کے برخلاف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مالی سال 2014-15 سے 2024-25 کے دوران ہندوستان میں خام تیل کی درآمد پر انحصار 84 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسی عرصے میں ایل پی جی کی درآمدی انحصار 46 فیصد سے بڑھ کر 62 فیصد ہو گیا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے دعوے عملی صورت اختیار نہیں کر سکے۔
جے رام رمیش نے قدرتی گیس کے معاملے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ اس کی صورتحال مزید غیر واضح رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2005 میں گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کرشنا-گوداوری بیسن میں بڑے گیس ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے ملک کو توانائی کے میدان میں خود کفیل بنانے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں 2011 سے 2016 کے درمیان کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی مختلف رپورٹوں میں اس منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی۔ ان کے مطابق 2017 میں متعلقہ ریاستی کمپنی کا سرکاری تیل کمپنی میں انضمام کر کے اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں سے ایندھن کی خریداری میں اچانک اضافہ اور پٹرول پمپوں و ایل پی جی مراکز پر لمبی قطاروں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد پہلی بار خام تیل، ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں، تاکہ عوامی تشویش کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں 2011 سے 2016 کے درمیان کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی مختلف رپورٹوں میں اس منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی۔ ان کے مطابق 2017 میں متعلقہ ریاستی کمپنی کا سرکاری تیل کمپنی میں انضمام کر کے اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں سے ایندھن کی خریداری میں اچانک اضافہ اور پٹرول پمپوں و ایل پی جی مراکز پر لمبی قطاروں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد پہلی بار خام تیل، ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں، تاکہ عوامی تشویش کو کم کیا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔