ہندوستان کے پاس ابھی کتنا ’خام تیل‘ موجود ہے؟ حکومت نے راجیہ سبھا میں دی جانکاری
خام تیل کی ذخیرہ اندوزی کے لیے 3 مقامات آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم اور کرناٹک میں منگلورو اور پڈور میں مجموعی طور پر 53.3 لاکھ میٹرک ٹن کی گنجائش والے زیر زمین اسٹریٹجک ذخیرہ کرنے کا انتظام ہے۔

حکومت نے پیر (23 مارچ) کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ ہندوستان کے ’اسٹریٹجک تیل کے ذخائر‘ موجودہ وقت میں 2 تہائی بھرے ہوئے ہیں اور سپلائی بحران کے دوران مختصر مدت کے لیے ’بفر‘ کا کام کر سکتا ہے۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا توانائی کا استعمال کرنے والا ملک ہے اور خام تیل کی ضرورتوں کا تقریباً 88 فیصد درآمد کرتا ہے۔ خام تیل کی ذخیرہ اندوزی کے لیے 3 مقامات آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم اور کرناٹک میں منگلورو اور پڈور میں مجموعی طور پر 53.3 لاکھ میٹرک ٹن کی گنجائش والے زیر زمین اسٹریٹجک ذخیرہ کرنے کا انتظام ہے۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت سریش گوپی نے ایک سوال کے تحریری جواب میں ایوان بالا کو بتایا کہ حکومت نے ایک خصوصی مقصد والی کمپنی ’انڈین اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو لمیٹڈ‘ (آئی ایس پی آر ایل) کے ذریعہ 53.3 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے آندھرا پردیش اور کرناٹک میں 3 مقامات پر اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کیے ہیں۔ یہ سپلائی کے بحران کی صورت میں مختصر مدت کے دوران ’بفر‘ کا کام کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کے حالات کی وجہ سے ذخیرہ کیے گئے خام تیل کی مقدار بدلتی رہتی ہے۔ فی الحال آئی ایس پی آر ایل کے پاس تقریباً 33.72 لاکھ میٹرک ٹن کا ذخیرہ ہے جو کل ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا تقریباً 64 فیصد ہے۔ ذخیرے اور اصل کھپت پر مبنی ’حقیقی ذخیرہ‘ کی مقدار بدلتی رہتی ہے اور وہ دونوں ہی مستقل نہیں ہے۔
سریش گوپی نے مزید بتایا کہ حکومت نے جولائی 2021 میں اوڈیشہ اور کرناٹک میں مجموعی طور پر 65 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کرنے کی گنجائش سمیت 2 اضافی تجارتی-کم-اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سہولیات کے قیام کو بھی منظوری دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خام تیل کی سپلائی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کسی ایک خطہ سے تیل کی درآمد پر انحصار کر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پبلک سیکٹر کے تیل اور گیس کے ادارے اپنی تکنیکی اور تجارتی ضروریات کی بنیاد پر مختلف ذرائع سے خام تیل حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں یہ ادارے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر جیسے روایتی فراہم کنندگان کے علاوہ امریکہ، نائیجیریا، انگولا، کناڈا، کولمبیا، برازیل اور میکسیکو جیسے نئے فراہم کنندگان سمیت 41 ممالک سے خام تیل درآمد کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دی گئی مہلت میں توسیع کے بعد پیر کو ’وال اسٹریٹ‘ (امریکی شیئر بازار) میں تیزی دیکھی گئی، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی درج کی گئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اگلے 5 دنوں تک ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچوں پر حملے نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔