اب صرف آبنائے ہرمز کے بھروسے نہیں ہے ہندوستان، انگولا سے آنے والا ہے 20 لاکھ بیرل تیل!
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان اب دیگر مقامات سے بھی تیل و گیس درآمد کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اب صرف آبنائے ہرمز یا خلیجی ممالک پر منحصر نہیں رہا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے، کیونکہ خلیجی ممالک سے ایشیا اور یورپ کو تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستان بھی اس جنگ سے اثر انداز دکھائی دے رہا ہے، لیکن ایک راحت بھری خبر سامنے آ رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان اب دیگر مقامات سے بھی تیل و گیس درآمد کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اب صرف آبنائے ہرمز یا خلیجی ممالک پر منحصر نہیں رہا۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی سرکاری کمپنی ہندوستان پٹرولیم نے ٹنڈر کے ذریعہ انگولا سے 20 لاکھ بیرل تیل خریدا ہے۔ یعنی مشرق وسطیٰ کے مہنگے ہو رہے تیل اور عدم دستیابی کی وجہ سے ہندوستانی ریفائنریز مغربی افریقہ و ایشیا-پیسیفک خطہ کے تیل کی طرف رخ کر رہی ہیں۔ ہندوستان پہلے تیل و گیس کی درآمد کے لیے تقریباً 45 فیصد مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب وہ نئے راستوں کی تلاش میں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث ہندوستان کی توانائی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز عمان اور دبئی کے بنچ مارک میں کچھ نرمی دیکھی گئی، لیکن ہفتہ کے آغاز میں ان میں تیزی آئی تھی۔ ایسا اس لیے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کا خام تیل دنیا کا سب سے مہنگا تیل بن گیا تھا۔ اس ہفتہ کے آغاز میں برینٹ فیوچر کی قیمتیں 2008 کے 147.50 ڈالر کے پچھلے ریکارڈ کو بھی عبور کر گئیں۔ ایشیا جانے والے لاکھوں بیرل مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمت طے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بنچ مارک میں اچانک اضافہ نے ایشیائی ریفائنریز کے لیے خرچ بڑھا دی ہے، جس کے باعث وہ متبادل تلاش کرنے یا پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
بہرحال، رائٹرز کے مطابق ایچ پی سی ایل نے ایکسون سے کلوو اور کیبنڈا کے 10 لاکھ بیرل تیل خریدے ہیں، جن کی قیمت برینٹ کروڈ آئل کے مقابلے میں تقریباً 15 ڈالر زیادہ ہے اور ان کی ترسیل یکم سے 10 مئی کے درمیان متوقع ہے۔ یہ تیل راجستھان کے صحرائی علاقہ واقع باڑمیر ریفائنری (جس کی یومیہ صلاحیت 1,80,000 بیرل ہے) کے لیے خریدا گیا ہے۔ اسی ہفتہ کے آغاز میں ایچ پی سی ایل نے تاجر ٹوٹسا سے فورکاڈوس اور اگبامی کے ایک ایک ملین بیرل بھی خریدے۔ اس کے علاوہ انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائننگ کمپنی ہے، بھی مغربی افریقہ سے خام تیل خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔