ایران-اسرائیل جنگ: عالمی منڈی میں خام تیل 110 ڈالر سے پار، ہندوستان میں مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ساڑھے تین سال میں پہلی بار100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ کچھ ہی دیر میں اس میں ایک بار پھر زبردست اُچھال آیا اور قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے پار پہنچ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 نئی دہلی: ایران اسرائیل جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا سب سے زیادہ اثر خام تیل پر پڑتا نظرآرہا ہے۔ جنگی حالات کے درمیان پیر کو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ساڑھے تین سال میں پہلی بار100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ کچھ ہی دیر میں اس میں ایک بار پھر زبردست اُچھال آیا اور قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے پار پہنچ گئی۔ جنگ کی وجہ سے پیداوار اور شپنگ میں رکاوٹ نے سپلائی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہندوستان میں ایل پی جی کے بعد اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پیر کو کاروبار شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ صبح 9:15 پر یہ تقریباً 114 ڈالر فی بیرل تھی۔ جمعہ کو تیل کی قیمت 92.69 ڈالر پر بند ہوئی۔ اس کے نتیجے میں اس میں 21 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ اس سے قبل 2022 میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا۔


صرف برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ پیر کو ’ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ‘ (ڈبلیو ٹی آئی)خام تیل بھی 100 ڈالر فی بیرل کو عبور کیا۔ یہ جمعہ کو90.90 ڈالر پر بند ہوا تھا۔ پیر کی صبح 9:15 بجے یہ 23 فیصد اضافے کے ساتھ 114 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہا تھا۔  گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کی قیمتوں میں 36 فیصد اور برینٹ کروڈ کی قیمت میں 28 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات ہیں۔ اس جنگ نے تیل اور گیس کی پیداوار اور سپلائی سے متعلق اہم شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد (تقریباً 15 کروڑ بیرل یومیہ) عام طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔ یہ آبنائے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان واقع ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر آئل ٹینکرز کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔ اس راستے سے سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔


برآمدات میں کمی کی وجہ سے عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات نے تیل کی پیداوار میں کمی کی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے والے ٹینک تیزی سے بھر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران، اسرائیل اور امریکہ نے بھی تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جس سے سپلائی کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ہندوستان اور دنیا میں مہنگائی کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور صارفین کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔

ہندوستان میں گزشتہ ہفتے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ کئی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 3.45 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ہفتہ پہلے سے تقریباً 47 سینٹ زیادہ ہے۔ ڈیزل 4.60 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل 55 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔