کورونا وائرس کی وجہ سے لوک سبھا کا بدلا نظارہ

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی تو کئی سیٹوں پر بیٹھے، لیکن انہیں بار بار اٹھایا گیا۔ اسی طرح بی ایس پی کے ریتیش پانڈے نے اپنے لئے طے شدہ سیٹ سے ایک رکن کو اٹھنے کے لئے کہا۔

تصویر لوک سبھا ٹی وی
تصویر لوک سبھا ٹی وی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کورونا وبا کی وجہ سے لوک سبھا میں مانسون اجلاس کے پہلے دن کا نظارہ آج بہت حد تک بدلا ہوا نظر آیا۔ اراکین کی بیٹھنے کی جگہ بدلی ہوئی تھی اور ایک رکن سے دوسرے رکن کے درمیان کافی فاصلہ ہونے کے ساتھ ہی شیشہ لگایا گیا ہے۔ آگے کی جن سیٹوں پر دو رکن بیٹھتے تھے وہاں ایک کے ہی بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ سیٹ کے پیچھے نمبر لکھا ہے اور جس سیٹ پر نمبر پٹی چپکی ہے وہیں رکن کو بیٹھنا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کارروائی شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے ہی ایوان میں پہنچ گئے تھے۔ ان کے بغل میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے لیکن اس بار راج ناتھ سنگھ کو ایک سیٹ چھوڑ کر وزیر داخلہ کی سیٹ پر بٹھایا گیا۔ آگے کی سیٹ پر وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک اور ان کے بغل میں اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر بیٹھے لیکن جاوڈیکر کو سماجی دوری کا احساس ہوا تو وہ فوراً پچھے کی سیٹ پر چلے گئے۔ بعد میں ایک اور وزیر ان کی جگہ پر آکر بیٹھ گئے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے لیڈر راجیو رنجن سنگھ کے بغل میں ایک بڑے وزیر محترم آکر بیٹھ گئے۔

وزراء آگے کی سیٹوں پر بیٹھنے میں دوری پر عمل کرتے ہوئے کم ہی نظر آئے۔ اراکین کے درمیان یقینی دوری رہی لیکن کئی رکن بعد تک اپنی سیٹوں کو تلاش کرتے نظر آئے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی تو کئی سیٹوں پر بیٹھے لیکن انہیں بار بار اٹھایا گیا۔ اسی طرح سے بی ایس پی کے ریتیش پانڈے نے اپنے لئے طے شدہ سیٹ سے ایک رکن کو اٹھنے کے لئے کہا۔

لوک سبھا کی ناظر گیلری میں کئی اراکین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ناظرین کی گیلری میں ایوان کی کارروائی دیکھنے کےلئے بنی وی آئی پی گیلری، غیر ملکی مہمانوں کے لئے بی گیلری اور دیگر میں بھی اراکین کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ کچھ اراکین کو راجیہ سبھا میں بٹھایا گیا تھا۔ پریس گیلری میں صرف صحافیوں کے لئے ہی بیٹھنے کی جگہ تھی لیکن دو صحافیوں کے درمیان پانچ سیٹوں کا فرق رکھا گیا۔

next