مدھیہ پردیش: او بی سی ریزرویشن کے بغیر نہیں ہوگا پنچایت انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کے دباؤ کا اثر

کانگریس لیڈر کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ ’’جب سے سپریم کورٹ کا حکم آیا ہے، ریاستی انتخابی کمیشن الگ الگ وقت پر الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہے، جو غلط فہمی پیدا کر رہا ہے۔‘‘

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کمل ناتھ نے ریاستی انتخابی کمیشن پر ریاست میں پنچایت انتخاب میں دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) کے لیے ریزرویشن کو لے کر الگ الگ طرح کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔

جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی جمعرات کو شروع ہوئی، کمل ناتھ نے او بی سی ریزرویشن کا ایشو اٹھایا اور حکومت سے اپنا رخ واضح کرنے کو کہا۔ کمل ناتھ نے کہا کہ ’’جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، ریاستی انتخابی کمیشن الگ الگ وقت پر الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہے جو غلط فہمی پیدا کر رہا ہے۔ میں حکومت سے او بی سی ریزرویشن کے ایشو پر حکومت کا رخ واضح کرنے کی گزارش کروں گا۔‘‘


مدھیہ پردیش حکومت نے کانگریس کے اس مطالبہ کے سامنے خود سپردگی کر دی اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اسمبلی میں کمل ناتھ کے مطالبہ کو قبول کر لیا۔ سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے اسمبلی میں بہت ہی قوت کے ساتھ اور دلائل پر مبنی باتیں کی اور او بی سی ریزرویشن کا معاملہ رکھا۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت او بی سی ریزرویشن کے بغیر پنچایت الیکشن کرانے کے حق میں نہیں ہے اور اس معاملے میں دوبارہ سپریم کورٹ جائے گی۔

واضح رہے کہ ریاست میں ہونے والے پنچایت انتخاب میں او بی سی ریزرویشن رد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مدنظر کانگریس پارٹی اسمبلی میں التوا کا نوٹس لے کر آئی تھی۔ کانگریس پارٹی کا مطالبہ تھا کہ پنچایت الیکشن بغیر او بی سی ریزرویشن کے نہ کرائے جائیں اور معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا جائے۔ کمل ناتھ نے دو دن قبل ہی کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کر دیا تھا کہ بغیر ریزرویشن کے انتخاب نہیں ہونے چاہئیں۔


کمل ناتھ نے واضح کر دیا تھا کہ ملازمتوں میں 27 فیصد او بی سی ریزرویشن بھی بی جے پی کی وجہ سے رکا ہے۔ پنچایت انتخاب میں او بی سی ریزرویشن کو بھی بی جے پی نے نقصان پہنچایا ہے۔ اگر مدھیہ پردیش انتخابی کمیشن اور مدھیہ پردیش حکومت کے وکیل سپریم کورٹ میں او بی سی ریزرویشن روکے جانے کے خلاف پیروی کرتے تو حالات دوسرے ہو سکتے تھے۔ کمل ناتھ نے کہا کہ میں او بی سی ریزرویشن ختم کرنے کی مخالفت کرتا ہوں۔ انھوں نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ٹھیک طرح سے ریاست کا کیس پیش نہیں کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔