گیان واپی مسجد سروے کی ویڈیو برسرعام کرنے کی درخواست منظور، 30 مئی کا انتظار!

انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی نے ضلع جج کی عدالت میں ایک درخواست دی تھی، اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ گیان واپی مسجد میں کمیشن نے جو سروے کیا ہے، اس کی ویڈیوز اور تصاویر برسرعام کی جائیں۔

وارانسی کی گیان واپی مسجد / تصویر آئی اے این ایس
وارانسی کی گیان واپی مسجد / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گیان واپی مسجد سروے سے متعلق ایک اہم حکم وارانسی ضلع کورٹ نے آج صادر کیا۔ سروے کی ویڈیو منظر عام پر لانے کی ہدایت دی گئی ہے اور اس کے لیے 30 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یعنی جلد ہی لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ گیان واپی مسجد کے اندر فوارہ ہے یا شیولنگ۔ 30 مئی کو عدالت ویڈیو کے ساتھ ساتھ سروے کے دوران کھینچی گئی تصویریں بھی جاری کرے گی۔

دراصل گیان واپی مسجد کی دیکھ ریکھ کرنے والی انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی نے ضلع جج کی عدالت میں ایک درخواست دی تھی۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ گیان واپی مسجد میں کمیشن نے جو سروے کیا ہے، اس کی ویڈیوز اور تصاویر برسرعام کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی وارانسی کے ضلع جج کے پاس ہندو فریق کی طرف سے بھی ایک خط بھیجا گیا جس میں کورٹ کمشنر کی سروے رپورٹ پبلک ڈومین میں لانے اور اس کی اشاعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔


ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ’وشو ویدک سناتن سنگھ‘ کے سربراہ جتیندر سنگھ وسین نے ضلع مجسٹریٹ سے گزارش کی ہے کہ گیان واپی کمیشن کی تصویر یا ویڈیو شائع نہیں ہونی چاہیے۔ ان سامانوں کو کسی پبلک پلیٹ فارم پر شیئر نہ کیا جائے کیونکہ یہ عدالت کی ملکیت ہے اور اس تک ہی محدود رہے تو اچھا ہے۔ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ ویڈیوز اور تصاویر پبلک ڈومین میں لانے سے ملک مخالف طاقتیں غلط فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور فرقہ وارانہ خیر سگالی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سروے رپورٹ میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ ہے۔ صفحہ نمبر 7 پر سروے سے جڑی بے حد اہم بات لکھی ہوئی ہے جس میں وضو کے لیے استعمال کیے جا رہے حوض کے بیچوں بیچ ملنے والی مبینہ شیولنگ کا بھی تذکرہ ہے۔ سروے رپورٹ میں دیوی دیوتاؤں کی ٹوٹی مورتیاں، کچھ نقشے، ناگ، کمل وغیرہ بنے ہوئے باقیات ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ 30 مئی کو جب سروے کے دوران کھینچی گئی تصویریں اور ویڈیوز جاری ہوں گی تو بہت کچھ صاف ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔