دفعہ 370 کی تنسیخ سے ہندوستان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملا: اے ایس دُلت

خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے درمیان رشتہ بحال ہوجانا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: خفیہ ایجنسی 'را' کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی تنسیخ سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ دفعہ بالکل کھوکھلا ہو چکا تھا۔ ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ اس دفعہ کی تنسیخ سے کشمیر کے لوگ مایوس اور ناراض ہوئے ہیں۔ موصوف نے کہا کہ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو اب میدان میں آکر سیاست کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے درمیان رشتہ بحال ہوجانا چاہیے۔

دلت نے ان باتوں کا اظہار ایک مقامی انگریزی روزنامے کے ساتھ اپنے ایک آن لائن ویڈیو انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ دفعہ 370 ختم کرنے سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ اب بالکل کھوکھلا ہو چکا تھا لیکن بی جے پی کا ایجنڈا تھا کہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنا ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے کشمیر کے لوگ مایوس ہوئے ہیں اور انہیں لگتا ہے یہ ایک قسم کی غداری ہے۔


اے ایس دلت نے کہا کہ مین اسٹریم سے وابستہ لوگ بھی اس سے ناخوش ہیں اور ان کی شکایات ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ سال 2004 میں حریت لیڈروں کی اُس وقت کے نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وقت بدلتا رہتا ہے کبھی بھی موقعے کو ہاتھ سے نہیں دیا جانا چاہیے۔ حریت کو 2000 سے 2004 تک کے چار برسوں کے دوران آگے بڑھنے کے کئی موقعے ملے تھے لیکن وہ وہیں رہ گئے جہاں پھنسے ہوئے تھے'۔

موصوف سابق 'را' سربراہ نے کہا کہ 'حریت کی طرف سے جب بھی کوئی وفد بات چیت کے لئے آتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ پہلے پاکستان کے ساتھ ہم بات کریں گے اور آپ بھی اُن کے ساتھ بات کریں یہ لوگ پاکستان کی ہدایات پر چل رہے ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود پاکستانی دوستوں سے کہا تھا کہ حریت کو جو آپ روکتے ہو وہ کشمیر کے لئے کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے۔


میرواعظ عمر فاروق کو سیاسی میدان میں آںے کی دعوت دیتے ہوئے اے ایس دلت نے کہا کہ 'میں خاص طور پر میرواعظ عمر فاروق جو ایک مذہبی رہنما ہیں، کو باہر نکل کر سیاست کرنے کو کہتا ہوں۔ اُن کو اب میدان میں آنا چاہیے'۔ انہوں نے کہا: 'میرواعظ صاحب کا رول بنتا ہے۔ دیگر علیحدگی پسند لیڈران جن کا مین سٹریم کی طرف جھکاؤ ہے اُن کو مین سٹریم کے ساتھ مل کر آگے چلنا چاہیے'۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کو لازم قرار دیتے ہوئے اے ایس دلت نے کہا کہ 'بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی بھی رکنا نہیں چاہیے اور جو ہمارے درمیان جو رشتہ ہے وہ بحال ہونا چاہیے، بات چیت لازمی ہے جب شروع ہوگی تب ہی کئی مسئلے حل ہوسکتے ہیں'۔


غلام نبی آزاد کے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی واپسی کے بیان کے متعلق موصوف نے کہا کہ 'میں آزاد صاحب کے اس بیان سے متفق ہوں اور حکومت کا یہ وعدہ بھی ہے کہ جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیا جائے گا اور کب دیا جائے گا الیکشن کے بعد یا قبل یہ لیڈران بات چیت سے طے کریں گے'۔ انہوں نے کہا کہ دلّی کے لیڈروں اور کشمیر کے لیڈروں کو بھی اس سلسلے میں آپس میں بات چیت کرنی چاہیے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں کشمیر پر تقریر کے بارے میں پوچھے جانے پر اے ایس دلت نے کہا کہ 'کشمیر پر اقوام متحدہ میں عمران خان کے تقریر سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک فضول مشق ہی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو آپس میں ہی بات چیت کرنی چاہیے'۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ابدی رشتہ قائم ہونا چاہیے جس کو بنانے کے لئے شروعات کی جانی چاہیے۔ مشرقی لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان حالیہ تناؤ کے بارے میں موصوف سابق را چیف نے کہا کہ 'ایل او سی یا ایل اے سی پر کبھی کبھی تناؤ ہوتا ہی ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔