امراوتی تشدد معاملہ میں حکومت مہاراشٹر کی جانب سے رضا اکیڈمی کو راحت

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ کولسے پاٹل نے اسمبلی میں بیان دیا ہے کہ 12 نومبر کو امراوتی بند اور تشدد معاملہ میں رضا اکیڈمی براہ راست ملوث نہیں، اس بیان سے رضا اکیڈمی کو راحت ملی ہے۔

امراؤتی شہر میں تشدد کی فائل فوٹو
امراؤتی شہر میں تشدد کی فائل فوٹو
user

محی الدین التمش

ممبئی: 12 نومبر کو تریپورہ فسادات اور اہانت رسول کے خلاف مہاراشٹر بند کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کے تعلق سے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ کولسے پاٹل نے ایوان اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امرواتی بند اور تشدد کی واردات میں رضا اکیڈمی براہ راست ملوث نہیں ہے۔

مہاراشٹر اسمبلی میں حزب اخلاف کے رہنما اور بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے ایوان میں مہاراشٹر بند کے دوران امراوتی تشدد کا معاملے اٹھاتے ہوئے تشدد کے لیے رضا اکیڈمی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔


وزیرداخلہ دلیپ کولسے پاٹل نے اس معاملے میں ایوان کو بتایا کہ امراوتی بند کے دوران جو تشدد کی وارداتیں رونما ہوئی تھیں، اس بند میں رضا اکیڈمی براہ راست شامل نہیں تھی۔ بلکہ جمعیت اہل سنت ٹیپو سلطان سینا، انڈین یونین مسلم لیگ، جئے سنویدھان سنگٹھن، بھیم آرمی براہ راست شامل تھیں۔ اس میں رضا اکیڈمی اور ایم آئی ایم اور دیگر تنظیمیں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں میں بھی رضا اکیڈمی نے بند کا اعلان کیا تھا، یہاں بھی جنتا دل سیکولر اور دیگر جماعتوں نے مقامی سطح پر بند کی حمایت کی تھی۔ ناندیڑ اور بھیونڈی میں بھی بند کو لے کر اسی طرح کے معاملات سامنے آئے ہیں۔

وزیرداخلہ نے رضا اکیڈمی کو ایک طرح کی کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کی واردات کے معاملات میں صرف ایک مخصوص سماج کو ذمہ دار قرار دینا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف اضلاع میں رونما ہونے والی تشدد کی واردات کے بعد گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امرواتی تشدد معاملے میں 474 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ مالیگاؤں میں 90، ناندیڑ میں 80، واشم میں 12، ایوت محل میں 7، اکولہ میں 15 اور بھیونڈی میں 10 لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ اس معاملے میں پورے مہاراشٹر سے 688 لوگوں کو ابھی تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔


واضح رہے کہ بارہ نومبر کو رضا اکیڈمی نے تریپورہ تشدد اور اہانتِ رسول کے خلاف پرامن مہاراشٹر بند کا اعلان کیا تھا۔ بند کے دوران ریاست کے مخلتف علاقوں سمیت امراوتی، ناندیڑ اور مالیگاؤں میں تشدد کی وارداتیں رونما ہوئی تھیں۔ 12 نومبر کو امراوتی بند کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کے دوسرے روز بی جی پی نے بھی امراوتی بند کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی تشدد کی وارداتیں رونما ہوئیں تھیں۔ اس معاملے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔