مدھیہ پردیش میں کورونا سے راحت، لیکن ڈینگو بن رہا آفت

کورونا کی دوسری لہر کا اثر مدھیہ پردیش میں تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے، لیکن اس درمیان ڈینگو نئی مصیبت بن کر سامنے آیا ہے، ہر طرف مریض بڑھ رہے ہیں جس نے حکومت کی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں کورونا کی دوسری لہر کا اثر تقریباً ختم ہونے والا ہے، لیکن اس درمیان ڈینگو نئی مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ہر طرف مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، حکومت بھی ان حالات کو لے کر فکرمند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ سے ریاست میں ڈینگو کے خلاف ’ڈینگو سے جنگ جنتا کے سنگ‘ مہم شروع کی جانے والی ہے۔ ریاست میں گزشتہ کچھ دنوں میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات نے حکومت کی فکر میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ عام لوگوں کو صلاح دی جا رہی ہے کہ وہ ایک ہفتہ سے زیادہ وقت تک کسی بھی جگہ پر پانی جمع نہ ہونے دیں۔ کولر، ٹنکی، گملے، پھول دان، پرانا ٹائر، بے کار ڈبے، سکورے، خالی پلاٹ میں موجود گڈھوں کی صفائی کریں۔ اس کے ساتھ ہی لاروا کنٹرول کے لیے ٹیمیفوس 50 فیصد کا گھول بی ٹی آئی پاؤڈر، بی ٹی آئی لیکوئڈ جیسے کیمیکل کا استعمال کریں۔

انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں کیمیکل سائفینوتھرن پانچ فیصد کے ذریعہ آؤٹ ڈور فوگنگ، جراثیم کش پائریتھرم دو فیصد کے ذریعہ ڈینگو پازیٹو مریض کے گھر کے آس پاس 400 میٹر کے علاقے میں واقع گھروں میں اسپیس اسپرے کی صلاح دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈینگو سے بچاؤ اور کنٹرول کی سرگرمیوں اور عام لوگوں کو ڈینگو مریض کے تئیں بیدار کرنے کے لیے تشہیری مہم چلائی جانے کی تیاری ہے۔ ساتھ ہی ہر گھر میں لاروا سروے، اسپیس اسپرے، فاگنگ اور آبی جماؤ ہٹانے کے لیے ٹیم تشکیل دی جائے گی۔


وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے ریاستی عوام سے کہا ہے کہ ’’گھروں کے آس پاس غیر ضروری طور سے پانی کا جماؤ ہو جانے سے ڈینگو پیدا کرنے والے لاروا کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ بیداری سے کورونا اور ڈینگو کے ساتھ ہی دیگر انفیکشن والے امراض کو روکا جا سکتا ہے۔ علاج سے بہتر ہے، احتیاط۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’15 ستمبر کو ڈینگو سے جنگ جنتا کے سنگ‘ مہم چلانے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ ریاست میں ڈینگو کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے یہ مہم چلانے کا فیصلہ لیا گیا۔ سرکاری عملہ اپنا کام کرے گا، کر بھی رہا ہے۔ فاگنگ، لاروا ختم کرنا، صاف صفائی، جہاں آبی جماؤ ہے وہاں دوائی ڈالنا وغیرہ کام حکومتی عملہ کرے گا، لیکن یہ جنگ بھی عوام کے تعاون سے لڑنی ہے۔‘‘

دوسری طرف ڈینگو کے بڑھتے اثرات کو لے کر سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہا ہے کہ ’’مدھیہ پردیش میں ڈینگو اور وائرل بخار کے مریضوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے جو کہ خطرناک ہے۔ کئی اضلاع ہاٹ اسپاٹ بن کر اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ طبی خدمات کی بدحالی روزانہ سامنے آ رہی ہے۔ حکومت کو جنگی سطح پر اس کی روک تھام کے سبھی ضروری انتظامات کرنے چاہئیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔