کشمیرمیں ریکارڈ توڑ سردیوں کا سلسلہ جاری، جھیل ڈل سمیت جملہ آبی ذخائر منجمد

محکمہ موسمیات کے علاقائی ناظم سونم لوٹس نے بتایا کہ سری نگر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جس سے پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں ریکارڈ توڑ سردیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سری نگر میں گزشتہ شب کی سردیوں نے 25 سالہ پرانے ریکارڈ کو پاش پاش کر دیا۔ محکمہ موسمیات کے علاقائی ناظم سونم لوٹس نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جس سے پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں سال 1995 کے ماہ جنوری میں شبانہ درجہ حرارت منفی 8.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی میں سال 1991 کے ماہ جنوری میں شبانہ درجہ حرارت منفی 11.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا۔

ادھر وادی کشمیر کا ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جمعرات کو مسلسل چوتھے دن بھی زمینی رابطہ منقطع رہا۔ بتادیں کہ 270 کلو میٹر طویل سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر ضلع رام بن میں اتوار کی شام کیلا موڑ پل کے نزدیک قومی شاہراہ کا ایک حصہ ڈھہ گیا تھا جس کے پیش نظر شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ کو قابل آمد ورفت بنانے میں دس دن کا وقت لگ جائے گا۔

وادی کشمیر کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی 434 کلو میٹر طویل سری نگر- لیہہ قومی شاہراہ سال رواں کے یکم جنوری سے ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند کر دی گئی ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والا تاریخی مغل روڈ گزشتہ زائد از ایک ماہ سے بند ہے۔ وادی کشمیر میں شدید سردی کی وجہ سے جمعرات کی صبح تمام آبی ذخائر بشمول شہرہ آفاق جھیل ڈل منجمد ہوئے ہیں اور شہر و گام کے مساجد، خانقاہوں یہاں تک کہ گھروں میں نصب نل بھی جم گئے ہیں۔

وادی میں جاری شدید سردیوں کے باعث جہاں کاروباری سرگرمیاں قدرے دیر سے شروع ہوئیں وہیں سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل میں بھی صبح کے وقت خلل واقع ہوئی۔ شدید سردی اور سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا پر خطر بن گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کے کناروں پر جمع برف کے ڈھیر راہگیروں کے لئے مشکلات ہی نہیں بلکہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ دریں اثنا حکام نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ منجمد آبی ذخائر بالخصوص جھیل ڈل پر چلنے پھرنے سے احتراز کریں۔

ضلع مجسٹریٹ سری نگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے اس ضمن میں اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’منجمد جھیل ڈل پر چلنا خطرناک ہے۔ مہربانی کرکے ایسا نہ کریں۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کو آپ کی حفاظت کے لئے تعینات کیا گیا ہے‘۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 11.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں گزشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ قاضی گنڈ میں منفی 10.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں گزشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 14.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 19.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 28.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

متعلقہ محکمہ کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 20 جنوری تک موسم خشک رہے کی توقع ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں سردیوں کے بادشاہ چالیس روزہ چلہ کلان کے دور اقتدار کا نصف حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ چلہ کلان نے اپنے دور اقتدار کے نصف حصے میں بھر طاقت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو اپنی موجودگی کا بھر پوراحساس بھی دلایا۔ چلہ کلان کا دوراقتدار 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوگا جس کے بعد بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوگا تاہم اس کے دور میں سردیوں کے زور میں بتدریج کمی واقع ہوجاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next