معیشت کے جس خطرے سے میں آگاہ کر رہا تھا اس سے آر بی آئی بھی متفق: راہل گاندھی

راہل گاندھی کے ذریعہ بدھ کی صبح کیے گئے ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے ایک اخبار کی خبر بھی شیئر کی ہے، جس میں آر بی آئی کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

راہل گاندھی
راہل گاندھی
user

عمران

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے معیشت کی بہتری کے حق میں ایک بار پھر مرکز میں برسراقتدار نریندر مودی حکومت کو مشورے دیئے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جس خطرے کے بارے میں میں کئی مہینوں سے انتباہ کر رہا تھا، اب اسے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بھی قبول کر لیا ہے۔ راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ بات کہی۔ بدھ کی صبح کیے گئے ٹوئٹ کے ساتھ راہل نے ایک اخبار کی خبر بھی شیئر کی ہے، جس میں آر بی آئی کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

آر بی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کھپت کو شدید دھچکا لگا ہے، غریبوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، لہذا معیشت کو پٹری پر آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی کے ذریعہ شیئر کی گئی خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں جو تخفیف کی گئی اس سے سرمایہ کاری کو فروغ نہیں ملا، بلکہ کمپنیوں نے اسے قرض میں کمی کرنے اور نقد بیلنس میں اضافہ کرنے میں اس تخفیف کو استعمال کیا۔

آر بی آئی کی اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک بار پھر حکومت کو تجاویز دی ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا، ’’حکومت کو اب زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے، قرض دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ غریبوں کو پیسہ دیں، صنعتکاروں کا ٹیکس معاف نہ کریں۔ معیشت کو کھپت کے ذریعے دوبارہ شروع کریں۔''

یہ مشورہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو آئینہ دکھانے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے سے غریبوں کی مدد نہیں ہوگی اور نہ ہی اس سے معاشی تباہی ختم ہو سکے گی۔

Published: 26 Aug 2020, 10:40 AM
next