آر بی آئی: صارفین کی شکایات میں 22.7 فیصد کا اضافہ درج

بینکوں میں شکایات تصفیہ نظام کو مضبوط بنانے اور انفرااسٹرکچر کا جائزہ لینے کے لیے بینکوں کا سالانہ ایولیویشن کرنا بھی شامل ہے۔ یہ صارفین تحفظ اور گاہک خدمات کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

آر بی آئی، تصویر آئی اے این ایس
آر بی آئی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے لوک پال منصوبوں کے تحت صارفین شکایات میں مالی سال 2021 میں 22.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر ڈیبٹ کارڈ، آن لائن بینکنگ اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق ہیں۔ آر بی آئی کی بدھ کو مالی سال 21-2020 کے لیے لوک پال منصوبے پر جاری سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تینوں لوک پال منصوبوں کے تحت موصول شکایات سالانہ بنیاد پر 22.27 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 3 ہزار 107 رہی ہے۔

سالانہ رپورٹ میں بینکنگ لوک پال منصوبہ (بی او ایس) غیر بینکنگ مالیاتی کمپینوں کے لیے لوک پال منصوبہ (او ایس این بی ایف سی) اور ڈیجیٹل لین دین کے لیے لوک پال منصوبہ (او ایس ڈی ٹی) کے تحت سرگرمیوں کو شامل کیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق تین لوک پال منصوبوں کے تحت موصول کل شکایات میں سے بینکنگ لوک منصوبے کے تحت موصول شکایتوں کی تعداد 2 لاکھ 73 ہزار 204 ہے اور یہ کل کا 90.13 فیصد ہے۔ اسی طرح کل موصول شکایات میں سے 8.89 فیصد او ایس این بی ایف سی اور 0.98 فیصد او ایس ڈی ٹی کے تحت موصول ہوئی ہیں۔

آر بی آئی کی سی ایم ایس صلاحیتوں کو بڑھا کر شکایات کے تصفیہ کے معیار اور رفتار میں بہتری لانے کا منصوبہ ہے۔ علاوہ ازیں بینکوں میں شکایات تصفیہ نظام کو مضبوط بنانے اور انفرااسٹرکچر کا جائزہ لینے کے لیے بینکوں کا سالانہ ایولیویشن کرنا بھی شامل ہے۔ یہ صارفین تحفظ اور گاہک خدمات کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔