بند سے بوکھلائی بی جے پی نے کانگریس پر لگائے بے بنیاد الزامات

روی شنکر پرساد نے بہار میں 2 سالہ بچی کی موت کے لیے ’بھارت بند‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن بی جے پی حکمراں ریاست بہار کے ہی ایک افسر نے انھیں جھوٹا ثابت کر دیا اور کہا کہ اس موت کا تعلق بند سے نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے ’بھارت بند‘ میں جس طرح پورے ہندوستان کے عوام نے شرکت کی ہے اور حکومت کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے اس سے مودی حکومت بری طرح گھبرائی ہوئی ہے۔ یہ گھبراہٹ اس قدر اپنے عروج پر ہے کہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد ’بھارت بند‘ کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے پریس کانفرنس کر بیٹھے اور اس پریس کانفرنس میں بیان دیا کہ کانگریس بند میں تشدد کا استعمال کر رہی ہے ۔ انہوں نے اپنے الزام کے حق میں ایک بچی کی موت کا بھی سہارا لیا ۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس پر حملہ آور انداز میں کہا کہ ’’بھارت بند کے نام پر غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔ بہار میں ایمبولنس وقت رہتے اسپتال نہیں پہنچ پائی جس کی وجہ سے دو سالہ بچی کی افسوسناک موت ہو گئی۔ راہل گاندھی جواب دیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘ حالانکہ اس پریس کانفرنس کے کچھ ہی دیر بعد بہار کے ایک سرکاری افسر ایس ڈی او پریتوش کمار نے روی شنکر پرساد کو یہ کہہ کر جھوٹا ثابت کر دیا کہ ’’بچی کی موت کا بھارت بند سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ گویا کہ ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بی جے پی نے جھوٹ کا سہارا لیا۔

دراصل بہار کے جہان آباد میں 2 سالہ بچی کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد بی جے پی کو موقع ملا اور اس نے اس موت کو ’بھارت بند‘ سے جوڑ کر ایک جھوٹی خبر تیار کر دی۔ لیکن بی جے پی اشتراک والی بہار حکومت کے ایس ڈی او پریتوش کمار نے ہی اس جھوٹ کی قلعی کھول دی۔ انھوں نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’’بچی کی موت بھارت بند یا ٹریفک جام کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ فیملی والے اس بچی کو گھر سے ہی بہت تاخیر سے لے کر نکلے تھے۔‘‘

پریتوش کمار کے اس بیان کے بعد یہ ظاہر ہو گیا کہ ’بھارت بند‘ سے مودی حکومت اس قدر بوکھلا گئی ہے کہ وہ کانگریس کو جھوٹ کا سہارا لے کر تنقید کا نشانہ بنانے پر آمادہ ہے۔ چونکہ پورے ملک میں ’بھارت بند‘ کا زبردست اثر دیکھنے کو مل رہا ہے اور مودی حکومت میں بڑھ رہی مہنگائی، ڈیزل-پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور گیس سلنڈر کے آسمان پر پہنچتے دام سے بے حال عوام کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں کے اس بند کی حمایت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں اس لیے مرکزی حکومت کا پریشان ہونا لازمی بھی ہے۔ 2019 میں ہونے والے عام انتخابات کی وجہ سے بی جے پی کچھ زیادہ ہی پریشان ہے اور اسے بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مودی حکومت کا دوبارہ اقتدار میں آنا لوہے کے چنے چبانے سے کم نہیں ثابت ہوگا۔

next