رام مندر تعمیر کا فیصلہ آنے کے بعد اب کوئی تنازعہ نہیں، جسے جو کہنا ہے وہ کہتا رہے: اقبال انصاری

بابری مسجد کے اہم فریق رہے اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ "سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اب 9 مہینے گزر گئے ہیں، اب مندر-مسجد کا کوئی تنازعہ نہیں بچا ہے۔ جسے جو کہنا ہے وہ کہتا رہے۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کا فیصلہ آئے تقریباً 9 مہینے گزر گئے ہیں اور آج یہاں رام مندر تعمیر کے لیے بھومی پوجن کا پروگرام بھی مکمل ہو گیا۔ پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو رام مندر تعمیر کو درست نہیں مانتے۔ اس سلسلے میں بابری مسجد کے اہم فریق رہے اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ "سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اب 9 مہینے گزر گئے ہیں، اب مندر-مسجد کا کوئی تنازعہ نہیں بچا ہے۔ جسے جو کہنا ہے وہ کہتا رہے۔"

دراصل اقبال انصاری کو بھی رام مندر بھومی پوجن تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تھی اور انھوں نے اس میں شریک ہونے سے پہلے ہی میڈیا میں بیان دے دیا تھا کہ انھیں رام مندر تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھے جانے والے پروگرام میں مدعو کیے جانے پر خوشی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس تقریب میں ضرور شریک ہوں گے اور پی ایم مودی کو تحفہ بھی پیش کریں گے۔

اب بھی مسجد-مندر تنازعہ پر بات کرنے والوں لوگوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اقبال انصاری نے کہا کہ "فیصلہ آنے کے بعد اب آپسی تنازعہ ختم ہوگیا ہے۔ اگر ہم لڑتے رہے تو کبھی چین آنکھ دکھائے گا، کبھی نیپال گھورتا رہے گا اور کبھی پاکستان سرحدی تنازعہ میں الجھائے گا۔" ان کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں وہ ہندو-مسلم تنازعہ مزید دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ "بھگوان رام کی عزت ہر مذہب میں ہے۔ ہمارے مذہب میں سبھی دیوی دیوتاؤں کو عزت دی گئی ہے۔ ایودھیا میں سبھی مذہب اور ذات کے لوگ صدیوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ذات اور مذہب کی تفریق تو لیڈر کرتے ہیں۔"

اس درمیان آج اقبال انصاری بھومی پوجن کی تیاریوں میں مصروف نظر آئے۔ کچھ میڈیا ذرائع پر آ رہی خبروں کے مطابق رام جنم بھومی پہنچنے پر اقبال انصاری کا استقبال کیا گیا۔ آج بھومی پوجن تقریب کے لیے تقریباً 175 لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ بھومی پوجن کا پروگرام تقریباً 12.30 بجے شروع ہوا تھا اور اس کے فوراً بعد شبھ مہورت کو دیکھتے ہوئے پی ایم مودی نے سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔

Published: 5 Aug 2020, 1:58 PM
next