پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں ارکان کے دھرنا و احتجاج پر پابندی، راجیہ سبھا سکریٹریٹ کا نیا سرکلر جاری

بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کسی بھی احتجاج، دھرنا، ہڑتال، انشن یا کسی مذہبی تقریب کے لئے پارلیمنٹ کے احاطہ کا استعمال نہیں کر سکتے

کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج / فائل تصویر
کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج / فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے ایک نئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مظاہرے، احتجاج، دھرنا، روزہ یا مذہبی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دھرنا یا احتجاج پر سرکلر پارلیمنٹ میں بعض الفاظ کے استعمال پر پابندی کے حکم پر اپوزیشن کی ناراضگی کے درمیان آیا ہے۔ اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس سرکلر پر تنقید کی ہے اور مرکزی حکومت پر حملہ بولا ہے۔

پارلیمنٹ کے 18 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس سے پہلے راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی نے ایک نیا بلیٹن جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اراکین کے تعاون کی توقع ہے۔

بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ ’’ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے کو کسی بھی مظاہرے، دھرنے، ہڑتال، انشن یا کسی مذہبی تقریب کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔‘‘ اس سے ناراض ہو کر کانگریس پارٹی کے راجیہ سبھا میں چیف وہپ جے رام رمیش نے ٹوئٹ کر کے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے 14 جولائی کو جاری کردہ سرکلر کی ایک کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھا، "وشگورو کا تازہ ترین مشورہ - دھرنا منع ہے۔" انہوں نے انگریزی میں دھرنا لکھتے ہوئے ایچ کو بریکٹ میں بند کر کے اسے ڈرنا کی طرح استعمال کیا ہے۔


اپوزیشن رہنما ماضی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور وہ کیمپس کے اندر مہاتما گاندھی کے مجسمے کے پاس احتجاج اور انشن بھی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں کچھ شرائط کے نفاذ کو اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ بی جے پی جس طرح ہندوستان کو برباد کر رہی ہے اسے بیان کرنے کے لیے ان کی طرف سے استعمال ہونے والے ہر تاثر کو اب غیر پارلیمانی قرار دیا گیا ہے۔

تاہم، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے لیکن قابل اعتراض لفظ کو متعلقہ بنیادوں پر حذب کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان ایوان کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے آزاد ہیں۔


خیال رہے کہ بدھ کے روز لوک سبھا سکریٹریٹ کے ایک نئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 'جملہ جیوی'، 'چائلڈ وِٹ'، 'کووڈ اسپریڈر'، 'اسنوپ گیٹ'، یہاں تک کہ 'شرمندگی'، 'گالی'، 'خیانت'، 'کرپٹ'، 'ڈرامہ'، 'منافق' اور 'نااہل' جیسے الفاظ کے استعمال کو پارلیمنٹ کے دونبوں اہاکتے اب لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانونں میں غیر پارلیمانی سمجھا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔