بالی ووڈ کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ، لگاتار 15 ہٹ فلموں کا ریکارڈ آج بھی برقرار
راجیش کھنہ نے بالی ووڈ کے پہلے سپر اسٹار کے طور پر 1969 سے 1971 کے درمیان لگاتار 15 سولو سپر ہٹ فلمیں دیں۔ ان کی بے مثال مقبولیت اور اداکاری آج بھی فلمی تاریخ کا روشن باب ہے

راجیش کھنہ ہندوستانی سنیما کے وہ درخشاں ستارے تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی اداکاری سے کروڑوں دلوں کو مسحور کیا بلکہ ہندوستانی فلم انڈسٹری میں ’سپر اسٹار‘ کی اصطلاح کو بھی نئی شناخت بخشی۔ انہیں بالی ووڈ کا پہلا سپر اسٹار کہا جاتا ہے، جن کی مقبولیت کا جادو آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ 18 جولائی کو ان کی برسی کے موقع پر ان کی فلمی زندگی اور ناقابلِ فراموش کامیابیوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔
راجیش کھنہ کا اصل نام جتن کھنہ تھا۔ وہ 29 دسمبر 1942 کو پنجاب کے امرتسر میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں اداکاری کا شوق تھا، اگرچہ ان کے والد اس شعبے میں آنے کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے تھیٹر کا رخ کیا اور بعد میں یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے آل انڈیا ٹیلنٹ مقابلے میں کامیابی حاصل کر کے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
راجیش کھنہ نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1966 میں چیتن آنند کی فلم ’آخری خط‘ سے کیا، تاہم انہیں حقیقی شہرت 1969 میں ریلیز ہونے والی فلم ’آرادھنا‘ سے حاصل ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے باپ اور بیٹے کا دوہرا کردار ادا کیا، جس نے انہیں راتوں رات سپر اسٹار بنا دیا۔ ان کی منفرد اداکاری، سر کو مخصوص انداز میں جھٹکنے کا انداز، غمگین آنکھیں اور دلکش مسکراہٹ نے ناظرین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔
’آرادھنا‘ کی بے مثال کامیابی کے بعد راجیش کھنہ نے ایسا ریکارڈ قائم کیا جو آج تک ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں برقرار ہے۔ انہوں نے 1969 سے 1971 کے درمیان لگاتار 15 سولو سپر ہٹ فلمیں دیں، جن میں ’آرادھنا‘، ’دو راستے‘، ’سچا جھوٹا‘، ’کٹی پتنگ‘، ’سفر‘، ’آنند‘، ’ہاتھی میرے ساتھی‘، ’محبوب کی مہندی‘ اور ’امر پریم‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ یہ کارنامہ آج بھی کسی دوسرے اداکار کے حصے میں نہیں آ سکا۔
ستر کی دہائی میں راجیش کھنہ کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی۔ ان کے مداحوں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں، کے درمیان ان کا ایسا جنون تھا جس کی مثال ہندوستانی فلمی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی تصاویر کو بوسے دیے جاتے تھے، انہیں خون سے لکھے گئے محبت نامے بھیجے جاتے تھے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے مداح گھنٹوں انتظار کیا کرتے تھے۔ فلمی تجزیہ نگاروں کے مطابق دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند جیسے عظیم ستارے بھی اپنی جگہ بے مثال تھے، لیکن راجیش کھنہ کے مداحوں کے جنون کی نوعیت منفرد تھی۔
راجیش کھنہ کی کامیابی میں معروف ہدایت کار شکتی سامنت کا بھی اہم کردار رہا۔ ’کٹی پتنگ‘، ’امر پریم‘، ’انوراگ‘، ’اجنبی‘، ’انورودھ‘ اور ’آواز‘ جیسی کئی یادگار فلموں میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔ اداکارہ ممتاز اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ان کی جوڑی بھی فلمی شائقین میں بے حد مقبول ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : ایک تھپڑ سے شروع ہوا بالی ووڈ کے پہلے شو مین راج کپور کا سفر
اگرچہ انہیں رومانوی کرداروں کے لیے شہرت حاصل ہوئی، لیکن انہوں نے اپنی ہمہ جہت اداکاری سے ناقدین کو بھی متاثر کیا۔ فلم ’آنند‘ میں ان کا مشہور مکالمہ، ’بابو موشائے! ہم سب رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں، جس کی ڈور اوپر والے کی انگلیوں سے بندھی ہوئی ہے‘ ، آج بھی فلمی تاریخ کے یادگار ترین مکالموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح "باورچی" میں ان کے مزاحیہ کردار نے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے کردار بخوبی نبھا سکتے ہیں۔
1969 سے 1976 تک کا عرصہ راجیش کھنہ کے کیریئر کا سنہرا دور ثابت ہوا، لیکن امیتابھ بچن کے ابھار کے ساتھ ناظرین کے رجحانات میں تبدیلی آنے لگی۔ "اینگری ینگ مین" کے دور نے رومانوی ہیرو کی مقبولیت کو متاثر کیا اور راجیش کھنہ کی کئی فلمیں ناکام ہونے لگیں۔
اسی تبدیلی کے پیش نظر انہوں نے 1980 کی دہائی میں خود کو کریکٹر ایکٹر کے طور پر پیش کیا۔ فلم "ریڈ روزز" میں منفی کردار اور 1985 میں فلم "الگ الگ" کے ذریعے بطور فلم ساز ان کی نئی شناخت سامنے آئی۔ انہوں نے اپنے تقریباً چار دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں 125 سے زائد فلموں میں کام کیا اور تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ اپنے نام کیے۔
فلمی دنیا کے بعد انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور کانگریس کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ تاہم، عوام انہیں آج بھی ایک ایسے فنکار کے طور پر یاد کرتی ہے جس نے ہندوستانی سنیما کو اپنا پہلا سپر اسٹار دیا۔ 18 جولائی 2012 کو راجیش کھنہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی فلمیں، مکالمے اور لازوال مقبولیت انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
(ان پٹ یو این آئی)
