ایک تھپڑ سے شروع ہوا بالی ووڈ کے پہلے شو مین راج کپور کا سفر

راج کپور نے چائلڈ اداکار اور کلیپر بوائے کے طور پر فلمی سفر شروع کیا۔ کیدار شرما کی فلم ’نیل کمل‘ سے انہیں بطور ہیرو پہچان ملی اور بعد میں انہوں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار فلمیں دیں

<div class="paragraphs"><p>راج کپور / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

یو این آئی

google_preferred_badge

ہندوستانی سنیما کے پہلے شو مین کہے جانے والے راج کپور کی زندگی جدوجہد، خوابوں اور غیر معمولی کامیابیوں سے بھرپور رہی۔ اداکاری اور فلم سازی کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے والے راج کپور نے نہ صرف کئی یادگار فلمیں دیں بلکہ ہندوستانی سنیما کو عالمی سطح پر بھی نئی پہچان دلائی۔ ان کی فلمی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ ہدایت کار کیدار شرما کے ایک تھپڑ سے جڑا ہوا ہے، جس نے ان کے مستقبل کی سمت بدل دی۔

14 دسمبر 1924 کو پشاور میں پیدا ہونے والے راج کپور بچپن ہی سے فلموں کے شوقین تھے۔ جب وہ میٹرک کے امتحان میں ایک مضمون میں ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنے والد پرتھوی راج کپور سے صاف کہا کہ وہ مزید پڑھائی نہیں کرنا چاہتے بلکہ فلموں میں کام کرنا اور فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔ اپنے بیٹے کی یہ خواہش سن کر پرتھوی راج کپور خوش ہوئے اور انہوں نے راج کپور کی حوصلہ افزائی کی۔

راج کپور نے فلمی دنیا میں قدم بطور چائلڈ اداکار رکھا۔ بعد میں پرتھوی راج کپور کے مشورے پر وہ معروف ہدایت کار کیدار شرما کی یونٹ میں کلیپر بوائے کے طور پر کام کرنے لگے۔ اس دوران ان کا شوق صرف پردے کے پیچھے کام کرنے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی پردۂ سیمیں پر نظر آنا چاہتے تھے۔ شوٹنگ کے دوران وہ اکثر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوارتے اور کوشش کرتے کہ کسی نہ کسی طرح کیمرے کے سامنے آ جائیں۔

فلم ’وش کنیا‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بعد میں فلمی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ کلیپ دیتے وقت راج کپور کا چہرہ کیمرے کے سامنے آ گیا اور جلد بازی میں ایک اداکار کی مصنوعی داڑھی کلیپ بورڈ میں پھنس کر نکل گئی۔ اس حرکت پر کیدار شرما سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے راج کپور کو بلا کر زور دار تھپڑ مار دیا۔ تاہم رات بھر وہ اس واقعے پر افسردہ رہے۔ اگلے ہی دن انہوں نے راج کپور کو اپنی نئی فلم ’نیل کمل‘ میں مرکزی کردار کی پیشکش کر دی، جسے راج کپور نے خوشی سے قبول کر لیا۔ یوں ایک تھپڑ کے بعد انہیں وہ موقع ملا جس نے ان کے فلمی سفر کی بنیاد مضبوط کر دی۔


راج کپور صرف اداکار ہی نہیں بلکہ فلم ساز بھی بننا چاہتے تھے۔ اسی خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انہوں نے 1948 میں آر کے بینر قائم کیا اور اپنی پہلی فلم ’آگ‘ بنائی۔ اس کے بعد 1952 میں ریلیز ہونے والی فلم ’آوارہ‘ نے انہیں بے مثال شہرت عطا کی۔ فلم کا گیت ’آوارہ ہوں‘ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں مقبول ہوا اور راج کپور بین الاقوامی سطح پر بھی پہچانے جانے لگے۔

راج کپور اور نرگس کی جوڑی کو ہندوستانی سنیما کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں نے ’برسات‘، ’آوارہ‘، ’آہ‘، ’شری 420‘ اور ’چوری چوری‘ سمیت متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ’شری 420‘ کا گیت ’پیار ہوا اقرار ہوا‘ آج بھی ناظرین کی یادوں میں تازہ ہے۔

انہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے کئی بڑے فنکاروں کو موقع فراہم کیا۔ موسیقار شنکر جے کشن، نغمہ نگار حسرت جے پوری اور شیلندر سمیت کئی نامور شخصیات کو ان کی فلموں سے شناخت ملی۔ گلوکار مکیش کی آواز راج کپور کی شخصیت سے اس قدر جڑ گئی کہ انہیں راج کپور کی آواز کہا جانے لگا۔ مکیش کے انتقال پر راج کپور نے کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی اپنی آواز چلی گئی ہو۔

1970 میں ریلیز ہونے والی فلم ’میرا نام جوکر‘ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا جوا ثابت ہوئی۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی اور انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس دھچکے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بعد میں کئی کامیاب فلمیں پیش کیں۔


راج کپور کو اپنے فلمی سفر کے دوران کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں سال 1971 میں پدم بھوشن اور سال 1987 میں ہندی فلموں کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے سے نوازا گیا۔ اداکار کے طور پر انہیں دو بار جبکہ بطور ہدایت انہیں چار بار فلم فیئر ایواڑ سے سرفراز کیا گیا۔ سال 1985 کی فلم رام تیری گنگا میلی ان کی ہدایت کاری میں بننے والی آخری فلم تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے ڈریم پروجیکٹ حنا کی فلمسازی میں مصروف ہوگئے لیکن ان کی زندگی میں ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور 2 جون 1988 کو بالی وڈ کا یہ شو مین اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔