فیروز خان کا شاہانہ انداز، جس نے سنیما کو نئی پہچان دی

فیروز خان صرف اداکار نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی تھے۔ انہوں نے اپنی منفرد اداکاری، ہدایت کاری اور شاہانہ انداز سے ہندوستانی سنیما کو نئی شناخت دی، جو آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہے

<div class="paragraphs"><p>فیروز خان / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

فیروز خان کا شمار ہندوستانی سنیما کے ان فن کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے محض فلموں میں اداکاری نہیں کی بلکہ ایک مکمل اسلوب، ایک طرزِ زندگی اور ایک جمالیاتی معیار متعارف کرایا۔ 27 اپریل 2009 کو ان کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرنا دراصل ایک ایسے عہد کو یاد کرنا ہے جہاں فن اور شخصیت ایک دوسرے میں گھل مل جاتے تھے۔

ہندوستانی فلم انڈسٹری ہمیشہ سے باصلاحیت فن کاروں کی آماجگاہ رہی ہے، مگر چند ہی شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی انفرادیت کے باعث ایک الگ شناخت قائم کرتی ہیں۔ فیروز خان انہی میں سے ایک تھے۔ ان کی شخصیت میں وجاہت، خوداعتمادی اور شاہانہ انداز اس طرح رچا بسا تھا کہ وہ پردۂ سیمیں پر ہی نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ایک مکمل اسٹائل آئیکن نظر آتے تھے۔

25 ستمبر 1939 کو بنگلور میں پیدا ہونے والے فیروز خان کے والد کا تعلق افغانی پٹھان خاندان سے تھا جبکہ والدہ ایرانی نژاد تھیں۔ یہی تہذیبی امتزاج ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش پیدا کرتا ہے۔ فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے لیے وہ ممبئی آئے اور ابتدائی دنوں میں کافی جدوجہد کا سامنا کیا۔

کیریئر کے آغاز میں انہوں نے ثانوی درجے کی فلموں میں کام کیا۔ 1960 کی فلم دیدی میں بطور معاون اداکار ان کی موجودگی زیادہ نمایاں نہ تھی، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ کئی برسوں تک بی اور سی گریڈ فلموں میں کام کرنے کے باوجود ان کے اندر آگے بڑھنے کا عزم برقرار رہا۔


1965 میں ریلیز ہونے والی فلم اونچے لوگ ان کے کیریئر کا پہلا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد فلم آرزو میں ان کی اداکاری نے انہیں مزید پہچان دی۔ تاہم اصل کامیابی انہیں 1969 میں فلم آدمی اور انسان کے لیے فلم فیئر ایوارڈ کی صورت میں ملی، جس نے انہیں سنجیدہ اداکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اس کے باوجود انہیں مرکزی کردار کم ہی ملتے تھے، جو ان کے لیے ایک خلش کا باعث تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب انہوں نے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی راہ خود بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری کی طرف قدم بڑھایا، اور یہی فیصلہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔

1975 میں انہوں نے فلم دھرماتما بنائی، جو نہ صرف سپرہٹ ثابت ہوئی بلکہ ہندوستانی سنیما کی پہلی فلموں میں شامل تھی جس کی شوٹنگ افغانستان میں کی گئی۔ اس فلم میں انہوں نے اپنے فنی وژن اور تکنیکی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ قدرتی مناظر، کہانی کی پیشکش اور کرداروں کی تشکیل—ہر پہلو میں ایک نیا پن محسوس ہوتا ہے۔

تاہم ان کی سب سے یادگار فلم 1980 کی قربانی رہی، جس نے نہ صرف باکس آفس پر ریکارڈ قائم کیے بلکہ تکنیکی لحاظ سے بھی نئی راہیں کھولیں۔ اس فلم میں مغربی طرز کی فلم سازی، جدید کیمرا ورک اور موسیقی کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ خاص طور پر نازیہ حسن کی آواز میں گایا گیا گانا “آپ جیسا کوئی” آج بھی مقبول ہے۔


قربانی کی تیاری کے دوران مالی مشکلات کے باوجود فیروز خان نے کسی کے آگے جھکنے کے بجائے خود فلم کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔ نئی دہلی کے تاج مان سنگھ ہوٹل سے فلم کی ریلیز کا انتظام کرنا ان کے غیر معمولی اعتماد اور خودداری کی مثال ہے۔ یہ فلم زبردست کامیاب رہی، اگرچہ ان کی شاہانہ طرزِ زندگی کے باعث مالی فائدہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

فیروز خان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا طرزِ زندگی تھا۔ قیمتی ملبوسات، اعلیٰ درجے کی گاڑیاں اور عمدہ نسل کے گھوڑے—یہ سب ان کے ذوق کا حصہ تھے۔ وہ زندگی کو مکمل شان و شوکت کے ساتھ جینے پر یقین رکھتے تھے اور اس میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

ان کی دیگر اہم فلموں میں جاں باز، دیاوان، یلغار اور جانشین شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے فردین خان کو بھی فلمی دنیا میں متعارف کرایا اور اس کی رہنمائی کی۔ اپنے کیریئر کے آخری دور میں انہوں نے ویلکم میں ایک یادگار کردار ادا کیا، جس نے نئی نسل کو بھی ان کے فن سے روشناس کرایا۔ 2000 میں انہیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔

زندگی کے آخری برسوں میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہے، اور بالآخر 27 اپریل 2009 کو یہ درخشاں ستارہ غروب ہو گیا مگر ان کی فلمیں، ان کا انداز اور ان کی شخصیت آج بھی زندہ ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔