رشی کپور: رومانوی ہیرو سے ہمہ جہت اداکار تک ایک یادگار سفر

رشی کپور نے چار دہائیوں تک اپنی جاندار اداکاری سے فلمی دنیا پر گہرا اثر چھوڑا۔ رومانوی ہیرو سے لے کر سنجیدہ کرداروں تک، انہوں نے ہر روپ میں ناظرین کو متاثر کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بالی ووڈ کی تاریخ میں رشی کپور کا نام ایک ایسے اداکار کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی سدا بہار اداکاری سے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ وہ نہ صرف رومانوی ہیرو کے طور پر مقبول ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ایک سنجیدہ اور ہمہ جہت فنکار کے طور پر بھی منوایا۔ ان کا فلمی سفر تقریباً 4 دہائیوں پر محیط ہے، جو ہندوستانی سنیما کے مختلف ادوار کی عکاسی کرتا ہے۔

چار ستمبر 1952 کو ممبئی میں پیدا ہونے والے رشی کپور کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کے والد راج کپور ہندوستانی فلمی دنیا کے عظیم اداکار، پروڈیوسر اور ہدایتکار تھے۔ گھر کے فلمی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے ذہن میں اداکاری کا شوق پیدا کر دیا تھا۔

رشی کپور نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ فلم ’میرا نام جوکر‘ سے کیا۔ 1970 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں انہوں نے ایک کم عمر لڑکے کا کردار ادا کیا جو اپنی استاد سے محبت کرتا ہے۔ ان کی فطری اداکاری نے سب کی توجہ حاصل کی اور انہیں بہترین چائلڈ آرٹسٹ کا قومی ایوارڈ بھی ملا۔ اگرچہ یہ فلم ابتدا میں باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، لیکن بعد میں اسے ایک اہم فلم کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

اصل شہرت انہیں 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بوبی‘ سے ملی۔ اس فلم میں انہوں نے ڈمپل کپاڈیا کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ نوجوان محبت کی اس کہانی نے نہ صرف ناظرین کو متاثر کیا بلکہ رشی کپور کو ایک کامیاب رومانوی ہیرو کے طور پر قائم کر دیا۔ اس فلم کی کامیابی نے راج کپور کو مالی مشکلات سے بھی نکال لیا۔


ابتدائی کامیابی کے بعد کچھ فلمیں توقعات پر پوری نہ اتریں لیکن 1975 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کھیل کھیل میں‘ نے ان کے کیریئر کو نئی سمت دی۔ اس فلم میں ان کے ساتھ نیتو سنگھ نے کام کیا، اور دونوں کی جوڑی ناظرین میں بے حد مقبول ہو گئی۔ بعد ازاں یہ جوڑی کئی کامیاب فلموں میں نظر آئی، جن میں ’کبھی کبھی‘ اور ’امر اکبر انتھونی‘ شامل ہیں۔

فلم ’امر اکبر انتھونی‘ میں رشی کپور نے اکبر کا کردار ادا کیا، جو آج بھی ان کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس فلم کی قوالی ’پردہ ہے پردہ‘ آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اسی طرح ’ہم کسی سے کم نہیں‘ میں ان کی پرفارمنس اور گانے بھی ناظرین کو بہت پسند آئے۔

1980 کی دہائی میں رشی کپور نے اپنے فن کو مزید نکھارا۔ فلم ’قرض‘ میں ان کی اداکاری اور اس کے گیتوں نے نوجوانوں میں خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس کے بعد ’پریم روگ‘ میں انہوں نے سنجیدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ صرف رومانوی کرداروں تک محدود نہیں ہیں۔

1989 میں ریلیز ہونے والی فلم ’چاندنی‘ میں انہوں نے ایک ایسا کردار ادا کیا جس میں رومان اور سنجیدگی دونوں شامل تھے۔ اس فلم میں ان کی کارکردگی کو بہت سراہا گیا۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے فلم سازی میں بھی قدم رکھا، لیکن بطور ہدایتکار انہیں خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔


سن 2000 کے بعد رشی کپور نے اپنے کیریئر کا رخ بدلا اور کردار نگار کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے اپنی عمر کے مطابق کرداروں کا انتخاب کیا اور ہر کردار کو بھرپور انداز میں نبھایا۔ فلم ’لو آج کل‘ میں ان کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا اور انہیں بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔

اپنے طویل کیریئر میں رشی کپور نے تقریباً 150 فلموں میں کام کیا۔ ان کی نمایاں فلموں میں ’دیوانہ‘، ’دامنی‘، ’اگنی پتھ‘، ’ملک‘، ’ڈی ڈے‘ اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ ہر دور میں انہوں نے خود کو نئے انداز میں پیش کیا، جو ان کی فنی صلاحیت اور محنت کا ثبوت ہے۔

30 اپریل 2020 کو کینسر کے باعث ان کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کی یادیں اور ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ رشی کپور نہ صرف ایک کامیاب اداکار تھے بلکہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے سنیما کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی اداکاری، ان کے کردار اور ان کا انداز آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔