رینا رائے: ستر اور اسی کی دہائی کی دلیر اداکارہ
رینا رائے ستر اور اسی کی دہائی کی نمایاں اداکارہ رہیں۔ ناگن، جیسے کو تیسا اور اپناپن جیسی فلموں نے انہیں شہرت دی۔ سو سے زائد فلموں کے بعد انہوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی

ستر کی دہائی میں جب ہندی سنیما تیزی سے بدل رہا تھا، اسی دور میں رینا رائے ایک ایسی اداکارہ کے طور پر سامنے آئیں جنہوں نے اپنی جرات مندانہ اداکاری، مضبوط اسکرین پریزنس اور منفرد کرداروں کے ذریعے ناظرین کو متاثر کیا۔ 7 جنوری 1957 کو پیدا ہونے والی رینا رائے، جن کا اصل نام سائرہ علی تھا، آج بھی ستر اور اسی کی دہائی کے سنیما کی ایک نمایاں علامت سمجھی جاتی ہیں۔
رینا رائے کا فلمی سفر آسان نہیں تھا۔ انہیں سب سے پہلے ہدایت کار بی آر اشارہ کی فلم نئی دنیا نئے لوگ میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی، جہاں ان کے مقابل ڈینی ڈینزونگپا تھے۔ تاہم یہ فلم مختلف وجوہات کی بنا پر رک گئی اور بالآخر 1973 میں ریلیز ہوئی، مگر باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ اس ناکامی کے باوجود بی۔ آر۔ اشارہ نے رینا رائے پر اعتماد برقرار رکھا اور انہیں اپنی اگلی فلم ضرورت میں مرکزی کردار دیا۔
1972 میں ریلیز ہونے والی ضرورت اگرچہ تجارتی طور پر ناکام رہی، لیکن اس فلم نے رینا رائے کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کی جرات مندانہ اور دلکش اداکاری کے باعث وہ فلم انڈسٹری میں ’ضرورت گرل‘ کے نام سے پہچانی جانے لگیں۔ اسی فلم نے ان کے کیریئر کی سمت متعین کی اور انہیں مختلف النوع کرداروں کی پیشکشیں ملنے لگیں۔
1973 میں جتیندر کے ساتھ فلم جیسے کو تیسا رینا رائے کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ یہ ان کی پہلی سپر ہٹ فلم تھی، جس نے انہیں صفِ اول کی اداکاراؤں میں لا کھڑا کیا۔ خاص طور پر اس فلم کا گیت “اب کے ساون میں جی ڈرے” بے حد مقبول ہوا اور رینا رائے کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا۔
سال 1976 رینا رائے کے لیے غیر معمولی طور پر کامیاب ثابت ہوا۔ اس سال ریلیز ہونے والی فلمیں ناگن اور کالی چرن نے انہیں سپر اسٹار کے درجے تک پہنچا دیا۔ راج کمار کوہلی کی ہدایت کاری میں بنی ناگن میں رینا رائے نے اِچھا دھاری ناگن کا کردار ادا کیا، جو اس وقت کے ناظرین کے لیے ایک نیا اور دلکش تصور تھا۔ اس کردار پر انہیں فلم فیئر بہترین اداکارہ ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔ ناگن کی زبردست کامیابی کے بعد رینا رائے فلم انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔
راج کمار کوہلی کے ساتھ رینا رائے کی جوڑی خاصی کامیاب رہی۔ انہوں نے مقابلہ، جانی دشمن، بدلے کی آگ اور راج تلک جیسی فلموں میں انہیں اہم کردار دیے۔ 1977 میں ریلیز ہونے والی فلم اپناپن رینا رائے کے کیریئر کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے، جس پر انہیں فلم فیئر بہترین معاون اداکارہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شتروگھن سنہا اور سنیل دت کے ساتھ ان کی اداکاری کو ناظرین نے بے حد سراہا۔
رینا رائے نے اپنے طویل کیریئر میں سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی نمایاں فلموں میں جمی، وشوناتھ، بدلتے رشتے، کرم یوگی، گوتم گووندا، آشا، سو دن ساس کے، نصیب، ہتھکڑی، صنم تیری قسم، دھرم کانٹا، بے زبان، درد کا رشتہ، نوکر بیوی کا، غلامی اور آدمی کھلونا ہے شامل ہیں۔ ستر کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں وہ مسلسل کامیابی کے دور سے گزرتی رہیں۔
1983 میں رینا رائے نے کرکٹر محسن خان سے شادی کی اور فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئیں، جہاں ان کی بیٹی جنت کی پیدائش ہوئی، جو بعد میں سنم خان کے نام سے جانی گئیں۔ تاہم یہ رشتہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا اور 1992 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔
طلاق کے بعد رینا رائے ہندوستان واپس آئیں اور فلم آدمی کھلونا ہے (1993) کے ذریعے ہندی سنیما میں واپسی کی۔ اگرچہ وہ اپنے ابتدائی دور جیسی کامیابی دوبارہ حاصل نہ کر سکیں، مگر معاون کرداروں میں ان کی سنجیدہ اداکاری کو سراہا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اجے (1996)، گیر (1999) اور جے۔ پی۔ دتہ کی فلم ریفیو جی (2000) میں بھی کام کیا، جو ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔
2000 کی دہائی کے بعد رینا رائے نے زیادہ تر وقت اپنی بیٹی کی پرورش کو دیا، تاہم وہ کبھی کبھار ٹیلی ویژن پر نظر آئیں، جن میں انڈین آئیڈل جیسے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی بہن برکھا کے ساتھ مل کر ایک اداکاری اسکول بھی قائم کیا اور سیاست میں بھی دلچسپی لیتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ رینا رائے آج بھی اس دور کی نمائندہ اداکارہ سمجھی جاتی ہیں، جنہوں نے ہندی سنیما میں مضبوط خواتین کرداروں اور جرات مندانہ اداکاری کو نئی شناخت دی۔
(ان پٹ: یو این آئی)