منفی کرداروں کا باوقار چہرہ: اجیت، جو ویلن ہو کر بھی یادگار بنے
اجیت نے بالی ووڈ میں منفی کرداروں کو وقار اور انفرادیت بخشی۔ نپے تلے مکالمے، منفرد انداز اور مضبوط موجودگی کے باعث وہ ویلن ہو کر بھی ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے

بالی ووڈ کی تاریخ میں اگر منفی کرداروں کو وقار، ٹھہراؤ اور ایک منفرد شناخت ملی ہے تو اس کے پیچھے اجیت کی شخصیت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اپنی مخصوص اداکاری، نپے تلے مکالموں، سخت محنت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اجیت نے فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم اداکاروں کے حصے میں آیا۔
اجیت کا اصل نام حامد علی خان تھا۔ ان کی پیدائش 27 جنوری 1922 کو گولکنڈہ میں ہوئی۔ ان کے والد بشیر علی خان حیدرآباد میں نظام کی فوج سے وابستہ تھے۔ بچپن ہی سے اداکاری کا شوق ان کے مزاج میں شامل تھا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے آندھرا پردیش کے ضلع وارنگل سے حاصل کی، مگر خوابوں کی تعبیر کے لیے انہیں ممبئی کا رخ کرنا پڑا۔
چالیس کی دہائی میں اجیت نے ہیرو بننے کی خواہش کے ساتھ فلمی دنیا میں قدم رکھا اور 1946 میں فلم شاہ مصر سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ تاہم ابتدائی دس برس ان کے لیے سخت آزمائش ثابت ہوئے۔ 1946 سے 1956 تک وہ فلم انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
1950 میں ہدایتکار کے امرناتھ کے مشورے پر انہوں نے اپنا نام حامد علی خان سے مختصر کر کے اجیت رکھ لیا۔ یہ فیصلہ ان کے کیریئر کے لیے اہم ثابت ہوا۔ 1957 میں بی آر چوپڑا کی فلم نیا دور میں انہوں نے ایک دیہاتی کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ فلم مکمل طور پر دلیپ کمار کے گرد گھومتی تھی، لیکن اجیت نے اپنی مضبوط موجودگی سے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔
نیا دور کی کامیابی کے بعد اجیت نے یہ سمجھ لیا کہ ان کی اصل طاقت منفی کرداروں میں ہے۔ 1960 میں فلم مغل اعظم میں مختصر کردار کے باوجود انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کم اسکرین ٹائم میں بھی گہرا اثر چھوڑا جا سکتا ہے۔ اجیت کے فلمی کیریئر میں اصل موڑ 1973 میں آیا، جب زنجیر، یادوں کی بارات، سمجھوتا، کہانی قسمت کی اور جگنو جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان فلموں نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ اجیت کو منفی کرداروں کا مضبوط ستون بنا دیا۔
1976 میں ریلیز ہونے والی فلم کالی چرن اجیت کے کیریئر کا سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ان کا کردار ’’لائن‘‘ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ ان کا مشہور ڈائیلاگ، ’سارا شہر مجھے لائن کے نام سے جانتا ہے‘ عوام میں آج تک مقبول ہے۔ اسی طرح “مونا ڈارلنگ” اور “لِلی ڈونٹ بی سِلی” جیسے جملے ان کی شناخت بن گئے۔
کالی چرن کے بعد اجیت منفی کرداروں کے بے تاج بادشاہ کہلانے لگے۔ انہوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ویلن بھی مہذب، نرم لہجے اور وقار کے ساتھ بات کر سکتا ہے۔ خاص طور پر فلم زنجیر میں صنعت کار دھرم پال تیجا کا کردار ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی تھا۔ سلیم-جاوید کی تحریر اور پرکاش مہرا کی ہدایت کاری میں اجیت کا نپا تلا انداز ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا۔
اجیت نے دھرمیندر کے ساتھ بھی کئی فلموں میں کام کیا، جن میں یادوں کی بارات، جگنو، چرس، آزاد، رام بلرام، رضیہ سلطان اور راج تلک شامل ہیں۔ تقریباً چار دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں انہوں نے 200 سے زائد فلموں میں کام کیا۔
1990 کی دہائی میں صحت کے مسائل کے باعث انہوں نے فلموں میں کام کم کر دیا، مگر جگر، آدمی اور بے تاج بادشاہ جیسی فلموں میں ان کی موجودگی شائقین کے لیے باعثِ کشش رہی۔ ان کی آخری فلم کریمنل تھی۔ 22 اکتوبر 1998 کو اجیت اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ’لائن‘ آج بھی زندہ ہے۔ ان کا انداز، ان کے مکالمے اور ان کی خاموش رعب دار شخصیت آج بھی بالی ووڈ کے منفی کرداروں کے لیے ایک معیار سمجھی جاتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔