راجستھان: کوٹہ میں بھی خواتین نے بنایا ’شاہین باغ‘، احتجاج کا سلسلہ 9 دنوں سے جاری

تکنیکی تعلیمی اداروں کے لیے مشہور راجستھان کے شہر کوٹہ میں بھی خواتین نے ایک ’شاہین باغ‘ قائم کر لیا ہے اور گذشتہ 9 روز سے کشور پورہ عید گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

محمد صابر قاسمی میواتی

کوٹہ: دہلی کے شاہین باغ سے تحریک لیکر ملک کے مختلف طول و عرض میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کے مظاہروں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ ت تکنیکی تعلیمی اداروں کے لیے مشہور راجستھان کے شہر کوٹہ میں بھی خواتین نے ایک ’شاہین باغ‘ قائم کر لیا ہے اور گذشتہ 9 روز سے کشور پورہ عید گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔

کوٹہ میں یہ خواتین کڑاکے کی سردی کے باوجود ڈٹی ہوئی ہیں اور دن رات دھرنا دے رہی ہیں۔ دوپہر کے وقت کئی علاقوں سے یہاں خواتین پہنچتی ہیں اور شام تک دھرنے کے مقام پر موجود رہتی ہیں۔ جبکہ کچھ خواتین رات بھر دھرنے کے مقام پر موجود رہتی ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ملک کے دیگر خواتین کے مظاہروں کی طرح کوٹہ کی کشور پورا عیدگاہ کے اس دھرنے میں بھی مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ برابر شرکت کر رہے ہیں، بالخصوص سکھ برادری تو یہاں ہر وقت شانہ بشانہ نظر آتی ہے۔

دھرنے میں شامل خواتین پورے جوش و جذبہ کے ساتھ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک آواز میں نعرے بلند کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہیں سڑک پر آرٹ و پینٹنگ کے ذریعے بھی پیغامات لکھ کر بھی احتجاج درج کرایا جا رہا ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

کوٹہ میں چل رہے اس مظاہرے کی آرگنائزر شفا خالد نے قومی آواز کو بتایا کہ جو دھرنا کچھ خواتین کے ذریعے شروع ہوا تھا، آج نویں روز میں داخل ہوتے ہوئے ایک وسیع دھرنے میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہاں آنے والی خواتین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ شفا نے کہا کہ حکومت بنیادی سہولیات کے علاوہ نوجوانوں کے روزگار جیسے اہم مسائل پر توجہ دینے کی بجائے عوام کو پریشان کرنے والا قانون لے کر آئی ہے، جس کا خمیازہ غریبوں کو اٹھانا پڑے گا۔

سکھ برادری سے وابستہ سماجی کارکن سردار ہرجیت سنگھ نے بدھ کے روز کوٹہ کے احتجاج میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مخصوص ذہنیت کے حامل لوگ ملک کی گنگا جمنی تہذیب، اتحاد و سالمیت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ملک میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کے جو دھرنے شروع ہوے ہیں ان کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایسا بھی نقشہ بنے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت جس طرح سے زبان کھولنے اور اختلاف کی آواز کو ظلم و جبر سے کچل رہی ہے اس کے خلاف خواتین کے دھرنے سب سے موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر آصف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاہین باغ کی خواتین نے جو راستہ دکھایا آج پورا ملک اس پر چل پڑا ہے۔ انہوں نے سخت سردی کے باوجود دن رات دھرنے پر بیٹھنے والی خواتین کے جذبے کو سراہا اور انہیں سلام پیش کیا۔

دھرنا میں شامل ایک خاتون نصرت جہاں نے کہا کہ وہ دن رات اس دھرنے میں شامل ہو رہی ہیں اور گھر پر صرف ضروری کام کے لیے ہی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ان کے اس کام کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی سالہ عمر رسیدہ خاتون ناظمہ انصاری بھی اس دھرنے میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہماری کئی پشتیں گذر گئیں اب ہم سے شہریت کا ثبوت مانگا جاتا ہے، یہ نہیں چلے گا۔ جب تک اس قانون کی واپسی نہیں ہو جاتی ہم اسی طرح اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘

شائشتہ جوکہ کالج کی طالبہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سی اے اے کی وجہ سے آپسی سماج میں منافرت پھیلے گی اور کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

کانگریس کے نو منتخب ریاستی اقلیتی کمیشن کے صدر عابد کاغذی نے بھی خواتین کے مظاہرے میں شرکت کی۔ جائے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی اے اےکا نفاذ کسی بھی صورت میں ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کو فوری طور پر اس قانون کو واپس لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا ’’میں نے ریاست کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر کی حیثیت سے خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ پنجاب کی طرز پر 23 جنوری سے شروع ہونے جا رہے راجستھان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس قانون کے خلاف قرارداد منظور کرائیں۔‘‘

راجستھان: کوٹہ میں بھی خواتین نے بنایا ’شاہین باغ‘، احتجاج کا سلسلہ 9 دنوں سے جاری

عابد کاغذی نے کہا کہ جلد ہی راہل گاندھی سی اے اے کے خلاف جے پور میں عوامی جلسہ سے خطاب کریں گے اور اس کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔

سلیم شیری نے بتایا ’’یہ دھرنا پارلیمنٹ اسپیکر اوم برلا کی رہایش گاہ کے سامنے کشور پورا عیدگاہ پر پُر امن ماحول میں چل رہا ہے،جہاں پر خواتین ورد و تسبیحات کے ساتھ دعاؤں میں بھی مصروف نظر آ رہی ہیں، وہیں اب کوٹہ میں مسجد نوری چوک پر خواتین کا ایک دوسرا دھرنا کل سے شروع ہو گیا۔‘‘

Published: 22 Jan 2020, 6:30 PM