اپنے متروں کو ’دولت ویر‘ اور نوجوانوں کو 4 سال کے ٹھیکہ پر ’اگنی ویر‘ بنا رہے پی ایم: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم سرکاری ملکیتوں کو 50 سال کے لیے اپنے دوستوں کو ٹھیکے پر دے کر ’دولت ویر‘ بنا رہے ہیں، جب کہ نوجوانوں کو صرف 4 سال کے ٹھیکے پر ’اگنی ویر‘ بنا رہے ہیں۔

راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اگنی پتھ اسکیم کے خلاف کانگریس کا ستیہ گرہ جاری ہے۔ پیر کے روز بھی کانگریس لیڈران اور کارکنان اسمبلی حلقوں میں احتجاج درج کرانے کے لیے ستیہ گرہ پر بیٹھے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اس منصوبہ کی پہلے دن سے ہی مخالفت کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اگنی پتھ اسکیم کو لے کر پی ایم مودی پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے پیر کے روز ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔

راہل گاندھی نے اپنے تازہ ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم اپنے ’متروں‘ کو 50 سال کے لیے ملک کے ایئر پورٹس دے کر ’دولت ویر‘ اور نوجوانوں کو صرف 4 سال کے ٹھیکے پر ’اگنی ویر‘ بنا رہے ہیں۔ آج ملک بھر میں کانگریس پارٹی ’اگنی پتھ‘ کے خلاف ستیہ گرہ کر رہی ہے۔ جب تک نوجوانوں کو انصاف نہیں ملتا، یہ ستیہ گرہ نہیں رکے گا۔‘‘


غور طلب ہے کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف کانگریس کے لیڈران و کارکنان ملک بھر میں ستیہ گرہ کر رہے ہیں۔ راجدھانی دہلی میں بھی پارٹی کی دہلی یونٹ نے ستیہ گرہ کیا۔ ستیہ گرہ پر بیٹھے لیڈروں نے منصوبہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں منصوبہ کے خلاف ستیہ گرہ پر ریاستی صدر انل چودھری کی قیادت میں احتجاج درج کرایا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ اسکیم کے ذریعہ مودی حکومت نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ ملک کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ حکومت کو اس منصوبہ کو فوراً واپس لینا چاہیے اور جب تک حکومت یہ واپس نہیں لے گی، کانگریس جدوجہد کرتی رہے گی۔‘‘

کانگریس کے ستیہ گرہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا ہوا ہے۔ آج کئی مقامات پر بیریکیڈ لگا کر کانگریس کارکنان کو روکنے کی کوشش بھی کی گئیں۔ اس سے قبل اتوار کو مغربی بنگال میں پون کھیڑا، لکھنؤ میں اجئے ماکن، ممبئی میں سپریا شرینیت اور چنئی میں گورو گگوئی سمیت کانگریس کے 20 سینئر لیڈروں اور ترجمانوں نے ’اگنی پتھ کی بات: نوجوانوں سے بھروسہ‘ عنوان سے پریس کانفرنس کو خطاب کیا تھا اور اس اسکیم کو رَد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔