قومی

بی جے پی کی منشا پر پھر گیا پانی، ’سبریمالہ‘ ایشو پر نہیں کر سکے گی سیاست

راہل گاندھی آج کیرالہ کی وائناڈ پارلیمانی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کر رہے ہیں۔ ان کے وائناڈ آنے سے بی جے پی کی کوششوں پرپانی پھ گیا ہے جن کے سہارے وہ سبریمالہ ایشو کا سیاسی استعمال کرنا چاہ رہی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کیرالہ میں وائناڈ سے کانگریس صدر راہل گاندھی کے انتخاب لڑنے کے فیصلے نے مخالفین میں افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ پی ایم نریندر مودی نے اس اقلیتوں کی کثیر آبادی والے پارلیمانی حلقہ میں راہل کے امیدوار بننے کو شمالی ہند میں ہندوؤں کے غصے میں بچ نکلنے کی کوشش بتائی ہے۔ بھلے ہی یہ افسوسناک ہو لیکن سی پی آئی (ایم) کے ریاستی جنرل سکریٹری کوڈیری بالاکرشن نے بھی ان کی آواز میں آواز ملائی ہے۔ انھوں نے راہل کو مسلم طبقہ کے کٹرپنتھی عناصر کے امیدوار کے طور پر بتایا ہے۔

اس پارلیمانی حلقہ کی تشکیل 2009 میں ہوئی تھی۔ یہاں سے کانگریس ہی گزشتہ دو انتخابات جیتتی رہی ہے۔ بی جے پی نے اس بار پہلے بھارت دھرم جن سینا (بی ڈی جے ایس) کے پیلی بتیاتو کی این ڈی اے امیدوار کے طور پر اعلان کیا تھا۔ لیکن راہل کے یہاں سے انتخاب لڑنے کے امکانات کے بعد اس نے بی ڈی جے ایس صدر تشار ویلاپلی کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا۔ ویلاپلی پہلے تھریسور سیٹ سے لڑنے والے تھے۔ لیکن بی جے پی صدر امت شاہ کو امید ہے کہ وہ ایجھاوا ذات کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ کیرالہ میں ہندوؤں میں ایجھاوا کے ساتھ دلت، تھیا، نادر، نایر اور نمبودری اہم ہیں۔ ایجھاوا ذات کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ 1976 میں انھیں درج فہرست ذات کا درجہ دے دیا گیا۔ لیکن اس دعوے پر ابھی پوری قانونی مہر نہیں لگی ہے۔

یہاں پی. سنیر سی پی آئی کے امیدوار ہیں۔ ان کی مدد کے لیے سیتارام یچوری، پرکاش کرات، برندا کرات، ایس رام چندرن پلئی کے ذریعہ تشہیر کیے جانے کی امید ہے۔ کیرالہ میں بایاں محاذ کے اتحاد ایل ڈی ایف اور کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا رہا ہے۔

لیکن راہل گاندھی کے یہاں میدان میں آ جانے سے بی جے پی کے منصوبہ پوری طرح سے منتشر ہو گیے یہ معلوم پڑتا ہے۔ دراصل بی جے پی ایودھیا کی طرح جذبات مشتعل کر کے سبریمالہ کے بہانے کیرالہ میں کھاتہ کھولنے کی کوشش میں تھی۔ سبریمالہ مندر میں سبھی عمر کی خواتین کے داخلے کی اجازت کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرنے میں بی جے پی نے ایل ڈی ایف حکومت کی کوششوں پر سبھی قسم کے رخنات ڈالے۔ اسے امید تھی کہ کیرالہ کی 20 میں سے چار لوک سبھا سیٹوں پر اس کے سہارے وہ فتح حاصل کر لے گی۔ کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ میں کل ملا کر 35 سیٹیں جیتنے کا اس نے منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ ویسے سیاسی پنڈت محسوس کرتے ہیں کہ راہل کے میدان میں آ جانے کے بعد تو کیرالہ میں شاید ایک سیٹ پر بھی بی جے پی اور اس کے حامیوں کی دال نہیں گلنے والی۔

مانا جاتا ہے کہ راہل کو وائناڈ سے انتخاب لڑنے کے لیے منانے میں کانگریس جنرل سکریٹری کے. سی. وینوگوپال کا اہم کردار رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل کے وائناڈ سے بھی لڑنے کا اہم ہدف بی جے پی کو کیرالہ میں کھاتہ کھولنے سے روکنا ہے۔ بی جے پی اس ریاست میں اپنا ووٹ شیئر لگاتار بڑھاتی گئی ہے۔ لیکن کانگریس کے سبھی لیڈر بایاں محاذ کے تئیں اتنے سخت الفاظ کے استعمال سے بچ رہے ہیں۔ لیکن کانگریس کے ریاستی سطح کے لیڈروں کو بھروسہ ہے کہ راہل کے میدان میں آ جانے سے انتخابات کے بعد بایاں محاذ لیڈروں کا کردار لایعنی ہو جائے گا۔

کیرالہ میں تقریباً 46 فیصد آبادی اقلیتوں کی ہے اور لیفٹ کے لیڈر ان کے محافظ کی شکل میں خود کو پیش کرتے رہے ہیں۔ راہل کی آمد کے بعد اس طرح کی شبیہ پر اثر تو ہوگا ہی۔ گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں کیرالہ میں کانگریس نے آٹھ سیٹیں جیتی تھیں جب کہ سی پی ایم نے 5 اور سی پی آئی نے ایک سیٹ جیتی تھی۔ ترواننت پورم کے سیاسی تجزیہ نگار جیکب جارج بھی کہتے ہیں کہ وائناڈ سے راہل کی امیدواری سے کانگریس کی سیٹیں جنوبی ہند میں بڑھیں گی۔ کانگریس لیڈروں کو بھی لگ رہا ہے کہ وائناڈ میں راہل کی امیدواری کا اثر پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور تمل ناڈو پر بھی ہوگا۔ سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا بھی ہے کہ وائناڈ کا دوسری سیٹ کے طور پر انتخاب ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ وائناڈ تینوں ریاستوں کے جنکشن کی طرح ہے۔ تمل ناڈو میں 39، کیرالہ میں 20 اور کرناٹک میں 28 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔

ویسے راہل کی امیدواری سے سی پی ایم کے تلملانے کی خاص وجہ ہے۔ جس طرح بی ایس پی کے لیے قومی پارٹی کا درجہ بنائے رکھنے کے لیے مختلف ریاستوں میں انتخاب لڑنا ضروری ہے، وہی حال سی پی ایم کا ہے۔ اس کے قومی درجے پر خطرہ ہے۔ انتخابی کمیشن کے قوانین کے مطابق، کسی ایسی پارٹی کو چار لوک سبھا سیٹیں جیتنے کے ساتھ کم از کم تین ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں 6 فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس وقت سی پی ایم کو بنگال، کیرالہ اور تریپورہ میں ریاستی پارٹی کا درجہ حاصل ہے۔ اسے گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں 9 سیٹیں ملی تھیں۔ اس کا ووٹ شیئر 3.25 تھا۔ درجہ بنائے رکھنے کے لیے پارٹی کو یا تو 11 سیٹیں حاصل کرنی ہوں گی یا پھر 4 سیٹیں اور 6 فیصد ووٹ شیئر حاصل کرنا ہوگا۔ اس لیے یہ ماننا چاہیے کہ وہ وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔