راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو بتایا ’کیا ہوتی ہے شرم کی بات‘، ویڈیو پیغام کیا جاری
راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایپسٹین فائلز میں آپ کا، آپ کے وزیر اور آپ کے دوست کا ساتھ میں نام آنا، ایسے گھناؤنے مجرم کے ساتھ آپ کا نام جڑا ہونا... یہ شرم کی بات ہے۔‘‘
اے آئی سمٹ میں یوتھ کانگریس کے کارکنان نے جس طرح پی ایم مودی کے خلاف مظاہرہ کیا، بی جے پی کے سرکردہ لیڈران حیرت میں ہیں۔ وزیر اعظم سمیت مودی حکومت کے کئی وزراء نے اس عمل کو ملک کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا ہے، لیکن کانگریس بھی مضبوطی کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈران اپنے بیانات میں بھی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پی ایم مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ بتا رہے ہیں۔ اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے، جس میں کہا ہے کہ ’’مودی جی، آپ شرم کی بات کرتے ہو؟ شرم کی بات میں آپ کو بتاتا ہوں۔‘‘
راہل گاندھی نے اس ویڈیو پیغام میں پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایپسٹین فائلز میں آپ کا، آپ کے وزیر اور آپ کے دوست کا ساتھ میں نام آنا، ایسے گھناؤنے مجرم کے ساتھ آپ کا نام جڑا ہونا... یہ شرم کی بات ہے۔ آپ نے امریکہ کے ساتھ جو تجارتی معاہدہ کیا ہے، جس میں آپ نے ملک کو فروخت کر دیا... یہ شرم کی بات ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ملک کا ڈاٹا دے دیا، کسانوں کو ختم کر دیا، ٹیکسٹائل انڈسٹری برباد کر دیا... یہ شرم کی بات ہے۔‘‘
اس ویڈیو میں راہل گاندھی نے کچھ اہم باتیں سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’پورا ملک جانتا ہے اڈانی پر امریکہ میں چل رہے کیس نے آپ کی راتوں کی نیند اڑا رکھی ہے، کیونکہ یہ کیس بی جے پی اور آپ کے فائنانشیل آرکیٹکچر پر کیس ہے۔ 14 مہینوں سے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی... یہ شرم کی بات ہے۔‘‘ وہ اپنا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مودی جی، آپ اپنے دوستوں انل امبانی، اڈانی اور اپنے لیے جو مناسب سمجھیں، وہ کیجیے۔ میں اور کانگریس پارٹی کے ببر شیر ملک کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
راہل گاندھی کے اس ویڈیو پیغام کو انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی یوتھ کانگریس نے بے خوف انداز میں لکھا ہے کہ ’’مودی جی، سچ سے بھاگنے سے سچ بدل نہیں جاتا۔ جب ملک کے مفاد پر سوال کھڑے ہوں، جب معاہدے مشتبہ ہوں، جب اقتدار جواب دینے سے بچے، تب سوال پوچھنا ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے۔‘‘ آگے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’انڈین یوتھ کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے۔ ہم ایک ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم سے بھی وہی مشکل سوال پوچھتے رہیں گے، جو اس ملک کی عوام پوچھنا چاہتی ہے۔‘‘
یوتھ کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے کارکنان نے اپنی آواز اپنے لیے نہیں، بلکہ ملک کے لیے اٹھائی ہے۔ آپ کی پولیس چاہے جتنا دباؤ بنا لے، یوتھ کانگریس سچ اور ملک کی خاطر میدان میں راہل گاندھی جی کی قیادت میں کھڑی رہے گی۔‘‘ ایک دیگر پوسٹ میں یوتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مودی جی، سچ کو ’نیشنل شرم‘ بتا دینے سے حقیقت بدلتی نہیں، بلکہ آپ ہی ایکسپوز ہو رہے ہو۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’پولیسیا دباؤ اور ڈرانے کی سیاست سے نہ سوال رکیں گے، نہ جدوجہد۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔