’ایک وزیر، تین بحران‘، راہل گاندھی کا دھرمیندر پردھان پر نیا حملہ، مودی حکومت سے مانگا جواب
راہل گاندھی نے نیٹ پیپر لیک، سی بی ایس ای نتائج اور نئی زبان پالیسی کو لے کر مودی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر شدید حملہ کیا اور کہا طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر تعلیمی مسائل کو لے کر مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر سخت حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تازہ پوسٹ کرتے ہوئے نیٹ پیپر لیک تنازعہ، سی بی ایس ای جماعت 12 کے نتائج اور جماعت 9 میں نئی زبان سے متعلق پالیسی کو ایک ساتھ جوڑتے ہوئے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پہلے نیٹ پیپر لیک نے 22 لاکھ طلبہ کو متاثر کیا، اس کے بعد سی بی ایس ای جماعت 12 کے طلبہ کو خراب او ایس ایم سسٹم کے سبب غیر متوقع طور پر کم نمبر دیے گئے، جس کی وجہ سے کئی طلبہ کالجوں میں داخلے کی اہلیت سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب لاکھوں سی بی ایس ای جماعت 9 کے طلبہ کو یکم جولائی سے نئی زبان سیکھنے کے لیے کہا جا رہا ہے، جبکہ نہ اساتذہ دستیاب ہیں، نہ نصابی کتابیں موجود ہیں اور عبوری انتظام کے طور پر 14 سالہ طلبہ کو جماعت 6 کی کتابیں دی جا رہی ہیں۔
کانگریس رہنما نے لکھا کہ ’تین امتحانات، تین عمر کے گروپ اور ایک وزیر۔‘ انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک بار نہیں بلکہ ہندوستان کے ہر عمر کے طلبہ کو ایک ساتھ ناکام کر چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کا ہر نیا اعلان بچوں کو مزید غیر یقینی صورتحال میں دھکیل رہا ہے اور ہر ناکامی بغیر کسی کارروائی کے گزر رہی ہے۔
اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی نے وزارت تعلیم کو ’آفات کا محکمہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے طلبہ مسلسل بدانتظامی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ ان لاکھوں بچوں سے معافی مانگیں گے جن کے مستقبل کو حکومت اور وزیر تعلیم نے تباہ کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ’سیک پردھان‘ ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا، جس کا مطلب ہے کہ پردھان کو برخاست کیا جائے۔
اس سے قبل بھی راہل گاندھی نے آج ہی نیٹ تنازعہ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے مودی حکومت سے کئی سوال پوچھے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ نیٹ 2024 میں پیپر لیک ہوا لیکن امتحان منسوخ نہیں کیا گیا، جبکہ نیٹ 2026 میں پیپر لیک کے بعد امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ہر بار پیپر لیک ہو رہا ہے، سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے اور کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، لیکن وزیر تعلیم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’بار بار پیپر لیک کیوں ہو رہے ہیں؟‘ اور ’بار بار فیل ہو رہے وزیر تعلیم کو برخاست کیوں نہیں کیا جا رہا؟‘
نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر اپوزیشن جماعتیں مسلسل حکومت پر حملہ آور ہیں۔ این ایس یو آئی سمیت کئی طلبہ تنظیمیں بھی سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ ہفتہ کے روز این ٹی اے دفتر کے باہر سینکڑوں طلبہ نے مظاہرہ کیا تھا اور وزیر تعلیم کی برطرفی کے ساتھ این ٹی اے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو ملک اور بیرون ملک 5400 سے زیادہ مراکز پر نیٹ امتحان منعقد کیا گیا تھا لیکن راجستھان کے سیکر سمیت کئی علاقوں سے پیپر لیک کے ثبوت سامنے آنے کے بعد حکومت نے امتحان منسوخ کر دیا۔ اس معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی کے سپرد کی گئی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
