’بار بار پیپر لیک کیوں ہو رہے ہیں؟‘ نیٹ تنازعہ پر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے مانگا جواب
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی جی، ملک آپ سے کچھ سوال پوچھ رہا ہے – جواب دو! بار بار پیپر لیک کیوں ہو رہے ہیں؟ بار بار فیل ہو رہے وزیر تعلیم کو آپ برخاست کیوں نہیں کر رہے ہیں؟‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے نیٹ پیپر لیک معاملہ پر ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ’ایکس‘ پر پوسٹ کر مودی حکومت سے کئی تلخ سوالات پوچھے ہیں۔ راہل گاندھی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’نیٹ 2024: پیپر لیک ہوا۔ امتحان منسوخ نہیں ہوا۔ وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ سی بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ایک کمیٹی بنی۔‘‘
راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’نیٹ 2026: پیپر لیک ہوا۔ امتحان منسوخ ہوا۔ وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ سی بی آئی پھر تحقیقات کر رہی ہے۔ ایک اور کمیٹی بنے گی۔‘‘ ساتھ ہی راہل گاندھی نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’مودی جی، ملک آپ سے کچھ سوال پوچھ رہا ہے – جواب دو! بار بار پیپر لیک کیوں ہو رہے ہیں؟ بار بار اس ’پریکشا پے چرچا‘ پر آپ خاموش کیوں ہیں؟ بار بار فیل ہو رہے وزیر تعلیم کو آپ برخاست کیوں نہیں کر رہے ہیں؟‘‘
نیٹ پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی نے ایک دوسری پوسٹ میں لکھا کہ مودی حکومت میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ صرف جعل سازی کا ایک طے شدہ فارمولا ہے۔ پہلے طویل خاموشی، پھر گنہگاروں کو تحفظ، اور پھر سوال پوچھنے والوں پر حملہ۔ نیٹ پیپر لیک ہوا، لیکن ایک بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ 2024 میں این ٹی اے کے ڈی جی کو ہٹایا اور اب وزیر اعلیٰ کا پرنسپل سکریٹری بنا دیا۔ یہ حکومت جوابدہی قبول کرنے والی نہیں، بلکہ جوابدہی سے دور بھاگنے کی مشین ہے۔
راہل گاندھی نے ہفتہ کو این ایس یو آئی کے مظاہرے کی ایک ویڈیو ’ایکس‘ پر پوسٹ کر لکھا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 22 لاکھ نیٹ بچوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ کی بھی توہین کی ہے اور پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کو صرف اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ اس میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ جو پارلیمنٹ پر ہی بھروسہ نہیں کرتے، وہ نیٹ اصلاحات پر کیا بھروسہ کریں گے۔ پردھان کو ابھی ہٹائیے۔ واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں ہفتہ کے روز این ٹی اے آفس پر سینکڑوں طلبہ نے احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی کی قیادت میں منعقد اس مظاہرے میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبات کا مستقبل بدعنوان این ٹی اے اور مودی حکومت نے نیٹ گھوٹالے کے سبب برباد کر دیا ہے۔ مظاہرین نے 2 مطالبے رکھے۔ پہلا یہ کہ وزیر تعلیم کو برطرف کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ این ٹی اے پر پابندی عائد کر دی جانی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو ملک اور بیرون ملک کے 5400 سے زیادہ مراکز پر نیٹ کا امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ لیکن راجستھان کے سیکر اور دیگر علاقوں سے پیپر لیک کے پختہ ثبوت ملنے اور ’گیس پیپرز‘ کے سوالات مرکزی امتحان سے ہو بہو مل جانے کے بعد حکومت نے امتحان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری اب سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔
