این ٹی اے کے ہیڈکوارٹر پر این ایس یو آئی کا زبردست احتجاج، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ

این ایس یو آئی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ طلبہ کی محنت، والدین کے خوابوں اور ملک کے تعلیمی نظام کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کے خلاف این ایس یو آئی کی لڑائی مسلسل جاری رہے گی۔ پیپر لیک بند کرو، طلبہ کو انصاف دو!

<div class="paragraphs"><p>این ٹی اے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ’این ایس یو آئی‘ کے کارکنان</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نیٹ پیپر لیک اور امتحان منسوخ کیے جانے کے خلاف ہفتے کے روز اوکھلا میں واقع نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ہیڈکوارٹر پر این ایس یو آئی نے زبردست احتجاج کیا۔ قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں کانگریس کی طلبہ تنظیم سے وابستہ نوجوانوں نے احتجاج درج کراتے ہوئے احاطے کے اندر گھسنے کی کوشش کی۔ این ٹی اے کے طریقہ کار، امتحانی عمل میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ ہو رہے کھلواڑ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

مظاہرے کے دوران این ایس یو آئی کارکنوں کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈز تھے، وہ امتحانی نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہے تھے۔ تختیوں پر ’ڈاکٹر کی ڈگری بکاؤ ہے‘ اور ’طلبہ کی موت کا ذمہ دار کون‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ امتحان منعقد کرانے والا ادارہ این ٹی اے مکمل طور سے طرح ناکام ہو چکا ہے اور وہ ملک کے 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔ طلبہ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بار بار پیپر لیک کرنے اور امتحان کی رازداری برقرار رکھنے میں ناکام رہنے والی ایجنسی این ٹی اے پر فوری پابندی لگائی جائے۔


واضح رہے کہ احتجاج کے دوران بیریکیڈنگ پھاندنے کی کوشش کر رہے این ایس یو آئی کارکنان کو دہلی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے دھکیل کر پیچھے کر دیا۔ این ٹی اے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کر رہے طلبہ نے اندر گھسنے کی کوشش کی، اس دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان دھکامکی ہو گئی۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا، بسوں میں سوار ہوتے ہوئے بھی طلبہ نے نعرے لگائے۔

مظاہرے کی ایک ویڈیو این ایس یو آئی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیٹ امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ برداشت نہیں! این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں سیکڑوں طلبہ نے این ٹی اے کے دفتر کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔‘‘ ساتھ ہی این ایس یو آئی نے اپنی پوسٹ میں کئی اہم مطالبات کا بھی ذکر کیا، جن میں این ٹی اے کو فوری طور پر برخاست کرنے، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ، سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ، طلبہ کو مفت ذہنی صحت کی دیکھ بھال، متاثرہ طلبہ کو مفت قانونی امداد اور معاشی معاوضہ فراہم کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ این ایس یو آئی نے پختہ عزم کا ارادہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’طلبہ کی محنت، والدین کے خوابوں اور ملک کے تعلیمی نظام کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کے خلاف این ایس یو آئی کی لڑائی مسلسل جاری رہے گی۔ پیپر لیک بند کرو، طلبہ کو انصاف دو!‘‘


قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو ملک اور بیرون ملک کے 5400 سے زیادہ مراکز پر نیٹ کا امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ لیکن راجستھان کے سیکر اور دیگر علاقوں سے پیپر لیک کے پختہ ثبوت ملنے اور ’گیس پیپرز‘ کے سوالات مرکزی امتحان سے ہو بہو مل جانے کے بعد حکومت نے امتحان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری اب سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں لیکن طلبہ کا کہنا ہے کہ ہر بار امتحان منسوخ کرنا اور دوبارہ تاریخوں کا اعلان کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ سال بھر دن رات محنت کرنے والے طلبہ کے لیے اس ذہنی تناؤ اور معاشی بوجھ کو دوبارہ جھیلنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔