ملک کو وزیر اعظم کی نئی رہائش نہیں، سانسیں چاہیے: راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ

سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے بارے میں راہل گاندھی نے کہا کہ ملک ایک مشکل وقت میں ہے۔ ایسی صورتحال میں سینٹرل وسٹا منصوبے پر فوری پابندی عائد کردی جانی چاہیے اور اس رقم کو مریضوں پر خرچ کیا جانا چاہیے؎

راہل گامدھی، تصویر یو این آئی
راہل گامدھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس نے ملک میں ایک کہرام مچا رکھا ہے۔ حکومتوں کے انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت سب کچھ ٹھیک کرنے کے دعوے تو کر رہی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ روزانہ لاکھوں کی تعداد میں کورونا متاثرہ افراد سامنے آ رہے ہیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان سب کے بیچ میں سینٹرل وسٹا منصوبہ جاری ہے، جس پر مرکز کی مودی حکومت ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے سینٹرل وسٹا منصوبے پر ایک بار پھر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سانسوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم کی رہائش نہیں! راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی اس معاملے کو مستقل طور پر اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک ایک مشکل وقت میں ہے۔ ایسی صورتحال میں ابھی سینٹرل وسٹا منصوبے پر فوری پابندی عائد کردی جانی چاہیے اور اس رقم کو کورونا مریضوں پر خرچ کی جانی چاہیے۔ لیکن مرکزی حکومت اس کے لئے تیار نہیں ہے۔

اس سے قبل کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وسٹا اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئیں اموات کی کچھ خبروں کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "جب ملک کے عوام آکسیجن، ویکسین، اسپتال کے بستر، ادویات کی کمی سے جدوجہد کر رہے ہیں تو حکومت 13000 کروڑ روپے سے وزیر اعظم کی رہائش بنانے سے بہتر ہوگا کہ تمام وسائل لوگوں کی جانیں بچانے میں لگائیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے خرچوں سے عوام میں غلط پیغام جاتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کسی اور سمت میں ہیں۔

سینٹرل وسٹا منصوبہ دسمبر 2022 تک تیار ہونا ہے۔ اس منصوبے میں 13 ہزار 450 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کورونا سے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے کانگریس مسلسل بی جے پی سمیت وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔