کمال کا چوکیدار ہے! رافیل اور نوٹ بندی کا انکشاف ہونے دو، چوکیداری سامنے ہوگی: راہل

اترپردیش میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد پر كاگرنگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ دونوں پارٹیوں کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان كو اپنے فیصلے لینے کا مکمل حق ہے۔

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر راہل گاندھی نے دبئی سے پارٹی کارکنوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ اتر پردیش میں ہوئے ایس پی-بی ایس پی اتحاد کا احترام کریں، انہوں نے کہا کہ مایاوتی او اکھلیش یادو کے لئے ان کے دل میں انتہائی احترام ہے اور ان دونوں کو اپنے فیصلے لینے کا مکمل حق ہے، دبئی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ "انہوں نے اپنا فیصلہ لے لیا ہے، اور ہم بھی اپنا فیصلہ لے لیں گے، کانگریس کے پاس یوپی کے لوگوں کو دینے کے لئے بہت کچھ ہے‘‘۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ہمیں اپنی طاقت لگانی ہوگی اور اپنی طاقت کے مطابق ہم اتر پردیش میں لڑیں گے، پریس کانفرنس میں راہل نے تمام طرح کے سوالات کا جواب دیا، انہوں نے کہا کہ ’’میرا نام نریندر مودی نہیں ہے جو میں صرف وعدے کروں اور انہیں پورا نہ کروں۔ میں کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کروں گا۔ ’’نہوں نے پھر دہرایا کہ پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ ضرور دے گی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایسا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ حکومت ہند کا وعدہ ہے، وزیر اعظم یا کسی سیاسی پارٹی کا وعدہ نہیں ہے، لیکن پی ایم مودی حکومت کے کسی بھی وعدے کا احترام کرنا نہیں جانتے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایسا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ حکومت ہند کا وعدہ ہے، وزیر اعظم یا کسی سیاسی پارٹی کا وعدہ نہیں ہے، لیکن پی ایم مودی حکومت کے کسی بھی وعدے کا احترام کرنا نہیں جانتے‘‘۔

سبريمالا معاملے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ کیرل کے لوگوں سے بات کرنے کے بعد اس معاملے پر ان کے خیال بدلے ہیں، انہوں نے سبريمالا پر دونوں اطراف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کیرل کے لوگوں کو ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے رافیل معاملے پر دہرایا کہ اس سودے میں ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے، انہوں نے کہا کہ ’’یہ تو ابھی ٹریلر ہے، انتظار کیجیے بہت کچھ سامنے آئے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو لوک سبھا میں اس کا جواب دینا چاہیے تھا لیکن وہ فرار ہو گئے، راہل گاندھی نے کہا کہ سیدھا سا سوال ہے کہ آخر پی ایم مودی نے دسالٹ کا ٹھیکہ انل امبانی کو کیوں دلایا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اداروں کے احترام کو بحال کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوں گی۔

  • اس کے علاوہ راہل گاندھی نے کچھ دیگر مسائل پر بھی اپنی بات رکھی:
  • آر ایس ایس کو لگتا ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی آواز کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
  • ہم 2019 کا الیکشن اس لئے جیت جائیں گا کیونکہ بيوروكریٹس اور اداروں کی جانب سے صاف کہا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔
  • وزیر اعظم مودی نے انل امبانی کو 30 ہزار کروڑ کا فائدہ پہنچایا، میرے اس سوال کا جواب اب تک نہیں ملا کہ کیا وزارت دفاع نے رافیل سودے میں اعتراض کیا تھا۔
  • نوٹبندی ایک انتہائی سفاکانہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلہ تھا، اس فیصلے سے ملک کا غیر رسمی علاقے تباہ ہو گیا۔
  • ہندوستان میں اس وقت سرمایہ کاری 14 سال کے سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے، نوٹبندی اور جی ایس ٹی جیسی اقتصادی پالیسیوں سے اقتصادی ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے۔
  • بی جے پی نے جو غصہ کا ماحول پیدا کیا ہے ہم اسے ختم کریں گے۔
  • مودی نے اداروں کو کمزور کر کے ملک کی طاقت پر حملہ کیا ہے۔
  • کانگریس پارٹی ملک کو اقتصادی ترقی کے راستے پر لے کر جائے گی، ہم اس سے پہلے ایسا کر چکے ہیں۔
  • ہم نے 10 دن میں کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا اور صرف دو دن میں یہ کرکے دکھایا۔

راہل کے دبئی دورے کی تصویری جھلکیاں

تمام تصاویر یو این آئی