راہل کے سرور میں ڈوبا دوبئی، ہند نژاد مزدوروں نے لگائے ’راہل-راہل‘ کے نعرے

کانگریس صدر راہل گاندھی نے ہزاروں ہند نژاد مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’’آپ کے تعاون کے بغیر دوبئی کی ترقی ممکن نہیں تھی۔ آپ نے ہندوستانیوں کو فخر کا موقع میسر فرمایا۔‘‘

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر راہل گاندھی نے 11 جنوری کی صبح دوبئی میں غیر مقیم ہندوستانی (این آر آئی) مزدوروں سے خطاب کیا۔ اس دوران ہزاروں کی تعداد میں موجود مرد و خواتین مزدور بار بار ’راہل، راہل‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ ان کے جوش و خروش کو دیکھ کر راہل گاندھی نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’’میں آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ دوبئی کی ترقی، یو اے ای کی کامیابی اور دوبئی میٹرو کی ترویج آپ لوگوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا... آپ نے ہندوستانیوں کو فخر کا موقع میسر فرمایا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران دوبئی میں ہند نژاد مزدوروں سے ان کے مسائل جاننے اور اس کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو کچھ میں کر سکتا ہوں، آپ کے لیے کروں گا۔‘‘ کانگریس صدر نے وہاں موجود کچھ مزدوروں کے سوالوں کا جواب بھی دیا اور کئی ہند نژاد مزدوروں نے تو دوبئی پہنچ کر خیریت دریافت کرنے کے لیے راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا۔ انگریزی نیوز پورٹل ’گلف نیوز‘ کے مطابق اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ بندرا پرساد نے کہا کہ ’’ہم بہت خوش ہیں کیونکہ ہمارے لیڈر جو اس سال برسراقتدار ہونے والے ہیں، وہ ہم سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔‘‘ دوبئی میں 10 سال سے کام کر رہے یو پی کے ہی 30 سالہ دنیش کمار کا کہنا ہے کہ ’’ہم خوش ہیں کیونکہ کوئی ہماری بات سننے کے لیے آیا ہے، اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں کہ ہمارے مسائل جاننے کے لیے وہ دیر سے آئے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی جس مقام پر ہند نژاد مزدوروں سے خطاب کر رہے تھے وہاں کم و بیش 5000 بسیں موجود تھیں، گویا کہ دوبئی کی ہزاروں بسوں کے ذریعہ ہند نژاد مزدور راہل گاندھی سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ راہل گاندھی نے تقریب میں پہنچے لوگوں سے کہا کہ وہ ان میں سے ہی ایک ہیں اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ کیا چاہتے ہیں، آپ کے مسائل کیا ہیں، میں یہ سب سننے کے لیے دل سے تیار ہوں اور اس کا حل نکالنے کی بھی دل سے کوشش کروں گا۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’آپ نے ہر مذہب، ہر ریاست اور ہر ذات کا نام روشن کیا ہے۔ یہاں ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں، میں آپ سے اپنے من کی بات کرنے نہیں آیا، آپ کے من کی بات سننے آیا ہوں۔‘‘

جب راہل گاندھی جبل علی میں مجمل لیبر کیمپ میں مزدوروں سے خطاب کر رہے تھے تو مائیکرو فون ہند نژاد مزدوروں کی طرف بڑھائے جا رہے تھے تاکہ وہ اپنی پریشانیوں کے بارے میں کانگریس صدر کو بتائیں اور ان کی آمد پر اپنے جذبات کا اظہار بھی کریں۔ اس موقع پر ایک مزدور نے راہل گاندھی سے اپنے مسائل حکومت ہند تک پہنچانے کی گزارش کی تاکہ ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ کانگریس صدر نے سبھی مزدوروں کی باتیں بغور سنیں اور ان کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدام کا بھروسہ دلایا۔

اپنی بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے آندھرا پردیش سے متعلق ایک اعلان بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اگر کانگریس برسراقتدار آئی تو آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد وہاں موجود آندھرا کے باشندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ’راہل گاندھی زندہ باد‘ کے نعرے بلند ہونے لگے۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی دوبئی میں این آر آئی مزدوروں کے ساتھ ساتھ تجارتی طبقہ، طلبا اور پروفیشنلز سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔وہ ابوظبی کا بھی دورہ کریں گے اور وہاں بھی ہند نژاد لوگوں سے ملاقات کر ان کے مسائل جاننے کے ساتھ ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔