حقِ روزگار کی جدوجہد جاری، دہلی میں کل منریگا کارکنوں، یونینوں اور سماجی کارکنوں کا قومی مکالمہ
سندیپ دکشت نے بتایا کہ منریگا میں تبدیلی کے خلاف کل جواہر بھون، نئی دہلی میں قومی اجتماع کا انقعاد کیا جائے گا، جس میں 20 سے 25 ریاستوں سے سینکڑوں کارکن شریک ہو کر آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی طے کریں گے

نئی دہلی: منریگا قانون میں حالیہ تبدیلیوں کے خلاف کل 22 جنوری کو نئی دہلی کے جواہر بھون میں ایک قومی سطح کا پروگرام منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے منریگا کارکن اپنی جدوجہد کی آئندہ حکمت عملی طے کریں گے۔ اس پروگرام کا اعلان سابق رکن پارلیمنٹ اور رچناتمک کانگریس کے چیئرپرسن سندیپ دکشت نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر، 24 اکبر روڈ پر منعقد پریس کانفرنس میں کیا۔
سندیپ دکشت نے بتایا کہ اس پروگرام میں تقریباً 20 سے 25 ریاستوں سے 300 سے 400 کے قریب منریگا کارکن شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق یہ کارکن خود اپنی خواہش پر دہلی آ رہے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سن سکیں اور اس بات پر مشترکہ غور کریں کہ منریگا کے قانون میں کی گئی تبدیلیاں دیہی مزدوروں اور غریب خاندانوں کے مفاد کے خلاف کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع محض سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ حقوق کی بحالی کے لیے ایک سنجیدہ مکالمہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منریگا ایک ایسا پروگرام رہا ہے جس نے خاص طور پر کووڈ کے دوران دیہی ہندوستان کے لاکھوں لوگوں کو سہارا دیا اور روزگار کے ساتھ وقار بھی فراہم کیا۔ وقت کے ساتھ یہ اسکیم ایک حق کی صورت اختیار کر گئی تھی، جسے اب موجودہ حکومت ایک فلاحی یا رعایتی پروگرام میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت حق پر مبنی نظام کو خیرات کے تصور میں تبدیل کر رہی ہے، جس کی ملک بھر میں مزاحمت ہو رہی ہے۔
سندیپ دکشت کے مطابق منریگا سے جڑی مزدور یونینیں، دیہی تنظیمیں اور وہ ادارے جو برسوں سے بے زمین اور چھوٹے کسانوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، سب اس تبدیلی سے فکرمند ہیں۔ انہی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے بعد اس قومی اجتماع کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کارکن خود اپنی آواز رکھ سکیں اور جدوجہد کی سمت متعین کریں۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے دوران ایک علامتی سرگرمی بھی رکھی گئی ہے، جس کے تحت مختلف ریاستوں سے آنے والے کارکن اپنی اپنی منریگا سائٹس سے ایک ایک مٹھی مٹی لائیں گے، جسے یکجا کر کے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کا پیغام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کارکن یہ بھی بتائیں گے کہ کس طرح منریگا کے تحت ان کے گاؤں میں سڑکیں، اسکول، تالاب، پانی کے ذخائر اور دیگر عوامی سہولیات تعمیر ہوئیں۔
سندیپ دکشت نے امید ظاہر کی کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی بھی اس پروگرام میں شریک ہوں گے اور براہِ راست کارکنوں سے گفتگو کریں گے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومتوں کے نمائندے اور وہ اراکین پارلیمنٹ بھی اپنی بات رکھیں گے جو منریگا قانون میں تبدیلی کے دوران متعلقہ کمیٹیوں کا حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے دعوے کے مطابق ملک میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں تو پھر منریگا کے دن سو سے بڑھا کر ایک سو پچیس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تضاد خود اس بات کا ثبوت ہے کہ روزگار کا بحران برقرار ہے۔ آخر میں انہوں نے میڈیا نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کر کے ملک بھر سے آئے مزدوروں سے براہِ راست گفتگو کریں اور زمینی حقیقت کو سمجھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔