انتخاب جیتنے کے لیے جھوٹے وعدے کرنے والی حکومتوں پر سوال اٹھنا لازمی

حال میں اس بات پر غور و خوض کیا گیا کہ بی جے پی نے راجستھان میں 5 سال پہلے انتخاب کے وقت کیا کیا وعدے کیے تھے اور ان سب وعدوں کو کہاں تک پورا کیا گیا۔

انتخابات کے وقت بڑھ چڑھ کر وعدہ کرنا اور فتحیابی کے بعد انھیں بھول جانا، یہ ہندوستانی سیاست کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کے بارے میں سوال اٹھانا لازمی ہے۔ یہ کام بہت محنت سے راجستھان کے کئی عوامی تنظیموں نے حال ہی میں کیا۔ یہ عوامی تنظیمیں اطلاعات اور روزگار کے حقوق مہم سے جڑے ہوئی ہیں۔ ان تنظیموں نے اس پورے معاملے میں تحقیق کی کہ بی جے پی نے راجستھان میں پانچ سال قبل انتخاب کے وقت کیا کیا وعدے کیے تھے اور ان سب وعدوں کو کہاں تک پورا کیا گیا۔ ان میں سے کچھ وعدے ایسے ایشوز پر بھی تھے جن کا زیادہ تذکرہ حال کے وقت میں نہیں ہوا ہے۔ ایسے وعدوں کے بارے میں بھی ان عوامی تنظیموں نے ضروری جانکاری جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس تحقیق میں مختلف وعدوں کے آگے ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں یہ جواب دیا گیا ہے کہ وعدہ پورا ہوا کہ نہیں۔ اگر کسی ایشو پر یقینی جانکاری دستیاب نہیں ہو سکی ہے تو یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یعنی جہاں ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں جواب ممکن نہیں تھا یا حاصل نہیں ہو سکا وہاں الگ سے وعدہ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

اس تحقیق سے جو سب سے واضح صورت حال ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اکثر وعدوں کے ضمن میں جواب ’نہیں‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ یعنی کہ وعدے کی تکمیل ہوئی ہی نہیں۔ ’ہاں‘ میں جو بھی جواب ملے ہیں، یعنی جہاں وعدہ پورا کیا گیا ہے، اس کی تعداد بہت کم ہے۔ کئی صفحات تو ایسے ہیں جہاں وعدوں کا ریزلٹ پورے صفحے پر ’نہیں‘ ہی نظر آ رہا ہے۔

اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کس حد تک انتخابی وعدوں کو انتخاب میں کامیابی کے بعد فراموش کر دیا گیا۔ تحقیق کرنے والوں نے خود کو صرف تنقید تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ ایک دیگر دستاویز بھی تیار کیے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ مفاد عامہ کے نظریہ سے خصوصاً غریب طبقہ و خواتین کی نظر میں آئندہ پانچ سالوں کے لیے سب سے اہم مطالبات کون سے ہیں۔ اگر اس اہم مطالبہ پر آئندہ پانچ سالوں میں توجہ دی گئی تو اس سے سماجی شعبہ میں اہم کامیابی حاصل کرنے اور خاص طور پر غریب طبقہ و خواتین کو راحت دینے میں مدد ملے گی۔

سب سے زیادہ مقبول