انجینئر کی دردناک موت معاملے میں نوئیڈا انتظامیہ پر اُٹھے سوال،4 دن بعد بھی پانی میں پھنسی ہے یوراج کی کار

متوفی پانی میں ڈوبتی کارسے2 گھنٹے تک مدد کے لیے چلاتا رہا جب محکمہ کے غوطہ خور پانی میں نہیں اترے تو ایک مقامی شخص نے ہمت دکھائی اور کمر میں رسی باندھ کر50 میٹراندرتک گیا مگر تب تک کافی دیر ہوچکی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>چشم دید فوٹو : ویڈیو گریپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

قومی راجدھانی سے ملحق اترپردیش کے نوئیڈا میں رہنے والے سافٹ ویئر انجینئر یووراج کی کار ڈوبنے سے ہوئے دردناک موت معاملے میں 4 دن گزر جانے کے باوجود انتظامیہ گاڑی کو برآمد نہیں کرپائی ہے۔ یہ حادثہ رات تقریباً 11:45 بجے ہوا تھا جس کے بعد متوفی یوراج تقریباً دو گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتا رہا۔ اطلاع ملنے پر صبح 00:06 بجے فائر بریگیڈ کو کال کی گئی اور 00:25 بجے 3 گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ رات بھر ریسکیو آپریشن کے دوران صبح 3.30 سے 4.00 بجے کے درمیان ایس ڈی آر ایف کی ٹیم پہنچی لیکن حد بصارت صفر ہونے کی وجہ سے کامیابی نہیں ملی۔

جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ رات 11:45 بجے کے قریب پیش آیا تھا۔ یوراج پانی میں ڈوبتی کار کے اندر سے تقریباً دو گھنٹے تک مدد کے لیے چلاتا رہا۔ جب محکمہ کے غوطہ خوروں میں سے کوئی بھی پانی میں نہیں اترا تب ایک مقامی شخص نے ہمت دکھائی اور اپنی کمر میں رسی باندھ کر 50 میٹر اندر تک گیا۔ حالانکہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور یووراج کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ چشم دید کے مطابق فائر بریگیڈ اور پولیس موجود تھی لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوپائی۔ ایسی حالت میں سسٹم کی سستی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔


واردات کے حوالے سے منگل کو’آج تک‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی کمان ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کے ہاتھوں میں ہوتی ہے لیکن نوئیڈا کی ڈی ایم میدھا روپم نے 4 دنوں میں ایک بار بھی جائے وقوعہ کا دورہ نہیں کیا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ جہاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کو موقع پر رہ کر ریسکیو کی قیادت کرنا چاہئے تھا وہاں صرف ایک ایس ڈی ایم خانہ پُری کے لیے پہنچے تھے۔ اس سستی کی وجہ سے حادثے کا شکار کار 4 دن بعد بھی پانی کے اندر ہی پھنسی ہوئی ہے۔


’آج تک‘ کے مطابق حادثے ثالی رات 00:06 پہلی کال ہوئی جس کے 15-20 منٹ بعد نالج پارک سے فائر انجن پہنچا۔ بعد میں سورج پور سے ہائیڈرولک پلیٹ فارم اور ایڈوانس ریسکیو ٹینڈر منگوایا گیا۔ سب انسپکٹر شیو پرتاپ اور ایس ایچ او بھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ محکمہ فائر نے فوری طور پرغوطہ خوروں اور ایس ڈی آر ایف کو بلانے کی مانگ کی تھی لیکن ایس ڈی آر ایف کی ٹیم صبح 4 بجے کے قریب پہنچی۔ صبح 6 بجے تک چلے اس ابتدائی ریسکیو آپریشن کا نتیجہ صفر رہا اور یوراج کو بچایا نہیں جاسکا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔