’افسروں کو جیل میں ڈالنے سے آکسیجن نہیں ملے گی‘، سپریم کورٹ نے مرکز کو لگائی پھٹکار

سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم نے بفر اسٹاک بنانے کا اشارہ دیا تھا۔ زیادہ آبادی والے شہر ممبئی میں یہ کیا جا سکتا ہے تو یقیناً یہ دہلی میں بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

تنویر

آکسیجن بحران کے مسئلہ پر مرکز کی عرضی پر سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی جس میں عدالت عظمیٰ نے کئی امور پر مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی۔ بدھ کے روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’حکم پر عمل کرنا مرکز کی ذمہ داری ہے۔ حکم پر عمل نہ کرنے والے افسران پر کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘دراصل سپریم کورٹ میں راجدھانی دہلی میں آکسیجن کی فراہمی کے حکم پر عمل معاملہ میں کوتاہی کے سبب دہلی ہائی کورٹ کی حکم عدولی نوٹس کے خلاف مرکزی حکومت کی جانب سے عرضی داخل کی گئی تھی۔ اسی عرضی پر آج سماعت ہوئی۔

آکسیجن بحران کے مسئلہ پر مرکز کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس چندرچوڑ نے مشورہ دیا کہ سائنسی طریقے سے اس کی تقسیم کا انتظام کیا جائے۔ ممبئی میں بی ایم سی نے کورونا بحران میں اچھا کام کیا ہے، ایسے میں دہلی کو کچھ سیکھنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ آکسیجن چار افسران کو جیل میں ڈالنے سے نہیں آئے گی، ہمیں یہ یقینی کرنا ہوگا کہ زندگیاں بچیں۔


سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے بفر اسٹاک بنانے کا اشارہ دیا تھا۔ زیادہ آبادی والے شہر ممبئی میں یہ کیا جا سکتا ہے تو یقیناً یہ دہلی میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں پیر کے روز تک بتائیے کہ دہلی کو 700 میٹرک ٹن آکسیجن کب اور کیسے ملے گی۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ دہلی میں کووڈ عالمی وبا بہت سنگین مرحلہ میں ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے مرکز سے گزشتہ تین دن میں کی گئی آکسیجن سپلائی کے بارے میں سوال بھی کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔