نیپال میں مودی کے خلاف احتجاج و مظاہرہ

ہندوستان کی سرحد پر مہاکالی ندی میں ڈوب کر ایک نیپالی شخص کی ہلاکت کی خبر کے بعد مظاہرین نے جم کر احتجاج و مظاہرہ کیا اور وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے جلائے۔

پی ایم مودی / یو این آئی
پی ایم مودی / یو این آئی
user

یو این آئی

کاٹھمنڈو: نیپال کے کاٹھمنڈو میں ہندوستان کی سرحد پر مہاکالی ندی میں ڈوب کر ایک نیپالی شخص کی ہلاکت کی خبر کے بعد اتوار کو مظاہرین نے جم کر احتجاج و مظاہرہ کیا اور وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے جلائے، جس پر وزارت داخلہ نے احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی۔

سیتوپتی نیوزسائٹ رپورٹ نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری فرنیندر منی پوکھریلی کے ذریعہ آج جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزارت کی توجہ پڑوسی ملک کے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی اور ریلیوں اور پتلے جلاکر مبذول کی جا رہی ہے۔


افسران نے ہندوستان کا نام لیے بغیر کہا کہ کسی بھی مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا اور پڑوسی ملک کو نشانہ بنانے والی ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی جائے گی۔ سی پی این- یو ایم ایل طلبہ ونگ اور نئے رجسٹرڈ سی پی این (یونیفائیڈ سوشلسٹس) نے جمعہ اور ہفتہ کے روز کاٹھمنڈو میں دارچولا واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور ہندوستان کے وزیراعظم کا پتلا نذر آتش کیا۔

واضح رہے کہ 30 جولائی کو روپوے سے مہاکالی ندی کو پار کرنے کے دوران جے سنگھ دھامی (33) ندی میں گرنے کے بعد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا کہ ہندوستان کی بارڈر پولیس، ششتر سیما بل (ایس ایس بی) نے مہاکالی کو عبور کرنے کے لیے استعمال ہونے والی رسی کاٹ دی تھی۔ نیپال کی وزارت داخلہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔